چارسدہ: خواتین کا علاج کرنے والا سکھ حکیم قتل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے بھگوان سنگھ پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے وہ ہلاک ہو گئے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع چارسدہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے ایک حکیم کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی شام چارسدہ کے علاقے تنگی میں اس وقت پیش آیا جب پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک سکھ حکیم بھگوان سنگھ گھر جا رہے تھے۔

پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔

چارسدہ کے ضلعی پولیس سربراہ شفیع اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتول علاقے میں حکمت کا کام کرتے تھے اور تنگی اّڈہ میں ان کی چھوٹی سی دوکان تھی۔

ضلعی پولیس سربراہ کے مطابق وہ روزانہ پشاور سے اپنی دکان پر آیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مقتول علاقے میں خواتین کے علاج معالجے کےلیے مشہور سمجھے جاتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ بھگوان سنگھ شام کے وقت دکان بند کرکے گھر جا رہے تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ تاہم پولیس افسر نے کہا کہ اس واقعے کی وجہ فوری طورپر معلوم نہیں ہو سکی اور نہ ہی کسی تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

مقتول کے صاحبزادے نے تنگی پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ان کی کسی سے دشمنی یا لین دین کا کوئی تنازع نہیں تھا۔ مرحوم کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد پشاور میں ان کے گھر پہنچا دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ نومبر 2008 میں قبائلی علاقے خیبر ایحنسی میں ایک سکھ حکیم کی لاش ملی تھی جنھیں سر میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں