کراچی: سرچ آپریشن کے دوران سو سے زائد افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دہشت گرد اس مہم کو جتنا روکیں گے ہم اس میں اتنی ہی تیزی لائیں گے: شرجیل میمن

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں منگل کو انسدادِ پولیو مہم کے تین رضاکاروں کی ہلاکت کے بعد پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن کے دوران سو سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

پولیس نے بدھ کی صبح قیوم آْباد، محمود آباد اور آس پاس کے علاقوں میں سرچ آپریشن کیا ہے۔ ایس ایس پی پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ 100 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔

گرفتاریوں کے خلاف قیوم آْباد کے مکینوں نے احتجاج کیا اور کورنگی ایکسپریس وے پر رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹریفک معطل کر دی، جس کے باعث کورنگی روڈ سے لے کر شاہراہ فیصل تک کئی کلومیٹر تک ٹریفک شدید متاثر ہوئی اور شہریوں کو دفاتر اور کارخانوں میں ملازمت پر پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس نے بے قصور نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے جن کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چند شہریوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہل کاروں نے سرچ آپریشن کے دوران لوٹ مار بھی کی ہے۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کا بھی استعمال کیا جس کے بعد احتجاج کی شدت کم ہوگئی۔

دوسری جانب پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کی جانب سے پولیو ورکروں پر حملے کے خلاف آج یعنی بدھ کو یومِ سوگ منایا جا رہا ہے۔ کراچی سول ہسپتال، نوشہرو فیروز اور ٹھٹہ میں جلوس بھی نکالے گئے ہیں۔

ادھر واقعے کے 24 گھنٹوں کے بعد سندھ کے صوبائی وزیر صحت شرجیل میمن کا موقف سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے پولیو مہم جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد اس مہم کو جتنا روکیں گے وہ اس میں اتنی تیزی لائیں گے۔

یاد رہے کہ ملک میں میں پولیو مہم کے دوسرے روز منگل کو کراچی میں انسدادِ پولیو مہم کے کارکنوں پر حملے کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکروں کی تنظیم نے تحفظ فراہم نہ کیے جانے پر مہم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا جب کہ محکمۂ صحت نے چند روز کے لیے کراچی میں مہم معطل کردی تھی۔

یہ واقعہ کراچی کے علاقے قیوم آباد بی ایریا میں پیش آیا، جس میں تین رضاکار ہلاک اور ایک خاتون ورکر سمیت دو افراد زخمی ہوئے تھے۔

محکمۂ صحت کے صوبائی سیکریٹری اقبال حسین کا کہنا تھا کہ کراچی میں 50 کے قریب ایسے علاقے ہیں جنھیں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر حساس قرار دیا گیا ہے لیکن جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا اس کا شمار عام علاقوں میں ہوتا ہے، اس لیے ٹیم کے ساتھ سکیورٹی موجود نہیں تھی۔

اسی بارے میں