وزیرستان میں تین جرمنوں سمیت 36 غیر ملکی ہلاک: سرکاری دعوے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے آپشن کو ابھی تک ترک نہیں کیا گیا

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ دعویٰ کر رہے ہیں کہ شمالی وزیرستان پر سوموار کی شب ہونے والی فضائی بمباری میں ہلاک ہونے والوں میں شدت پسندوں کے اہم کمانڈروں سمیت تین جرمن اور 33 ازبک باشندے شامل ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ ہلاک ہونے والے کمانڈروں میں ولی محمد، عصمت اللہ شاہین بھٹنی، نور بادشاہ اور مولوی فرہاد ازبک سمیت کئی اہم طالبان شدت پسند شامل ہیں۔

یاد رہے کہ وزیرستان میں ذرائع ابلاغ کی عدم موجودگی میں ملک کے اس دور افتادہ علاقے سے آزادنہ ذرائع سےمعلومات حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اور ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو سرکاری اور طالبان کی طرف سے کیے جانے والے دعووں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

طالبان کے ذرائع نے بھی غیر ملکیوں اور اہم کمانڈروں کی ہلاکتوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔

شمالی وزیرستان میں اس فوجی کارروائی میں بعض شہریوں کی ہلاکت کی بھی بازگشت سنائی دے رہی ہے لیکن محدود رابطوں کے باعث شمالی وزیرستان سے آنے والی ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار آصف فاروقی نے اطلاع دی ہے کہ دفاعی پیداوار کے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں حالیہ فوجی کارروائی کو شدت پسندوں کے خلاف کسی فوجی آپریشن کا آغاز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی مسلح افواج پر حالیہ حملوں کا ردِعمل ہے۔

’شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی حکومت کی مشاورت سے کی جا رہی ہے لیکن یہ محدود کارروائی ہے جو فوج پر حالیہ حملوں کا ردعمل ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جہاں اور جب بھی فوجی جوانوں کا خون بہے گا، فوج جوابی کارروائی ضرور کرے گی۔‘

وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر نے یہ بھی کہا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت مذاکرات کے سلسلے میں آٹھ شدت پسندوں گروہوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

حکمران جماعت کے ترجمان مشاہد اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات کے ساتھ حکومت پر شدت پسندوں کے خلاف جامع کارروائی کرنے کے لیے دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے تاہم شمالی وزیرستان میں حالیہ فوجی کارروائی کو اس مبینہ ’آپریشن‘ کا نقطۂ آغاز نہیں قرار دیا جا سکتا۔

مشاہداللہ خان نے کہا کہ حکومت طالبان شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات میں اب بھی سنجیدہ ہے۔

’مذاکرات کے آپشن کو ابھی تک ترک نہیں کیا گیا ہے۔ گو کہ یہ بہت مشکل مرحلہ ثابت ہو رہا ہے لیکن حکومت اس پر قائم ہے۔‘

اسی بارے میں