’مولانا کو کوئی مشن سونپا ہی نہیں گیا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سمیع الحق نے وزیر اعظم نواز شریف کے نام اس کھلے خط کی کاپیاں تمام ذرائع ابلاغ کو بھی ارسال کی تھیں

پاکستان میں وزیراعظم کے دفتر نے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی جانب سے طالبان کے ساتھ ’مذاکراتی‘ مشن سے علیحدہ ہونے کے اعلان کے جواب میں کہا ہے کہ مولانا کو ایسا کوئی مشن سونپا ہی نہیں گیا تھا۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک مختصر تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مولانا سمیع الحق سے دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لیے عمومی بات ہوئی تھی۔ انھیں کوئی متعین مشن نہیں سونپا گیا تھا۔‘

مولانا سمیع الحق نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ وزیراعظم کی جانب سے مثبت ردعمل نہ ملنے کے باعث طالبان کے ساتھ مجوزہ مذاکراتی مشن سے الگ ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ ان کی طرف سے مسلسل رابطہ کرنے اور پیغامات چھوڑنے کے باوجود نواز شریف کی طرف سے کوئی جوابی رابطہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس بارے میں وزیراعظم کو بھیجے گئے خط کا جواب دیا گیا۔

سمیع الحق نے وزیر اعظم نواز شریف کے نام اس کھلے خط کی کاپیاں تمام ذرائع ابلاغ کو ارسال کی تھیں۔ اس میں مولانا سمیع الحق نے وہ تاریخیں بھی دیں جن تاریخوں پر وزیر اعظم سے فون پر رابطہ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

صوبہ ِخیبر پختونخوا کے علاقے اکوڑہ خٹک میں قائم مدرسہ دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ کے طالبان کی قیادت کے ساتھ تعلقات کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے۔ خاص طور پر افغانستان میں قائم تحریک طالبان کے بعض اہم رہنما اکوڑہ خٹک کے اس مدرسے میں زیرتعلیم رہے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر شیخ خالد کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی مولانا سمیع الحق کے شاگردوں میں شامل ہیں۔

وزیراعظم اور سمیع الحق کے درمیان شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے گذشتہ چند ماہ میں متعدد بالواسطہ رابطے ہوئے تھے۔ اسی ماہ سمیع الحق نے وزیراعظم سے ملاقات بھی کی تھی جس کے بعد دونوں جانب سے ایسا تاثر دیا گیا تھا کہ وزیراعظم نے مولانا سمیع الحق کو طالبان کے ساتھ بات چیت کا خصوصی مینڈیٹ یا مشن سونپا ہے۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے مختصر تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات کے بعد تین ہفتوں سے انھوں نے کسی قسم کی پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ مولانا کی طرف سے دیا جانے والا یہ تاثر بھی درست نہیں کہ حکومت نے ان کی بات نہیں سنی۔

اسی بارے میں