مذاکرات کی بات ایک حربے سے زیادہ کچھ نہیں: طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سمیع الحق نے رواں ماہ کے آغاز میں بھی وزیراعظم سے ملاقات کی تھی

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے حکومت پر مذاکرات میں سنجیدہ نہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا سمیع الحق کا اس عمل سے علیحدہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ یہ حکومتی حربے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔

مولانا سمیع الحق اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے بارے میں متضاد بیانات اور تردیدوں کے بعد جمعرات کی شام کو تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کا بیان ذرائع ابلاغ کو ارسال کیا گیا، جس میں طالبان نے حکومت کے ان دعووں کو سختی سے رد کیا کہ طالبان مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے: ’ہم پاکستان کے مسلمانوں پر یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ تحریکِ طالبان نے کبھی سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات سے انکار نہیں کیا، لیکن یہ منافق حکمران مذاکرات کے نام پر آپ کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔‘

طالبان کے ترجمان نے کہا کہ سمیع الحق کی دستبرداری یہ ثابت کرتی ہے کہ حکومت بات چیت کے لیے سنجیدہ اور مخلص نہیں ہے۔

شاہد اللہ شاہد نے مزید کہا: ’مولانا کواپنے رابطوں پراس وقت سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب ملاقات تو درکنار ’مذاکرات کے زبردست حامی‘ چوہدری نثار صاحب سے فون پر بات کرنے کے لیے بھی انھیں مشکلات پیش آنے لگیں، بالآخر انھوں نے اس دھوکے اور سیاسی حربے والے مذاکرات کی حقیقت کا ادراک کر لیا اور اس عمل سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔‘

قبل ازیں جمیعت علمائے اسلام (س) نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کا کام جماعت کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو نہ سونپے جانے کے بیان کو حقائق مسخ کرنے کے مترداف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تین ہفتے کی خاموشی کے بعد اس قسم کی تردید حیران کن ہے۔

مولانا سمیع الحق نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ وہ وزیراعظم کی جانب سے مثبت ردعمل نہ ملنے کی وجہ سے طالبان کے ساتھ مجوزہ مذاکراتی مشن سے الگ ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ مسلسل رابطے کی کوشش کے باوجود نواز شریف کی طرف سے کوئی جوابی رابطہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس بارے میں وزیراعظم کو بھیجے گئے خط کا جواب دیا گیا۔

اس پر جمعرات کی صبح وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک مختصر تحریری بیان میں کہا گیا کہ ’مولانا سمیع الحق سے دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لیے عمومی بات ہوئی تھی۔ انھیں کوئی متعین مشن نہیں سونپا گیا تھا۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مولانا سمیع الحق کی طرف سے دیا جانے والا یہ تاثر بھی درست نہیں کہ حکومت نے ان کی بات نہیں سنی۔

اس کے ردعمل میں جمیعت علمائے اسلام کے ترجمان مولانا سید یوسف شاہ کی جانب سے جاری ہونے والے وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ 20 سے 22 دن کی مکمل خاموشی کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والی تردید انتہائی حیران کن ہے۔

انھوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق یہ معاملہ اب قوم پر چھوڑتے ہیں اور وہی یہ فیصلہ کرے کہ کون سچ اور کون جھوٹ بول رہا ہے۔

ترجمان نے وزیراعظم ہاؤس پر حقائق مسخ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایسے حساس معاملات میں حکومت کی طرف سے کوئی ذمہ داری قبول کرنے والوں کو ہزار بار سوچنا ہو گا کہ ان کی کوششوں سے کیا سلوک کیا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے بارے میں حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات سے ملک میں ابہام ہی بڑھا ہے۔

خیال رہے کہ صوبہ ِخیبر پختونخوا کے علاقے اکوڑہ خٹک میں قائم مدرسہ دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے طالبان کی قیادت سے تعلقات کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے۔

وزیراعظم اور سمیع الحق کے درمیان شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے گذشتہ چند ماہ میں متعدد بالواسطہ رابطے ہوئے تھے۔ اسی ماہ سمیع الحق نے وزیراعظم سے ملاقات بھی کی تھی جس کے بعد دونوں جانب سے ایسا تاثر دیا گیا تھا کہ وزیراعظم نے مولانا سمیع الحق کو طالبان کے ساتھ بات چیت کا خصوصی مینڈیٹ یا مشن سونپا ہے۔

اسی بارے میں