پاکستان کو 35 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ادائیگی کی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اٹھنے والے پاکستانی اخراجات کی ادائیگی کرتا ہے

امریکہ نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاونت کے لیے 35 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی منظوری دی ہے۔

یہ رقم پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں جاری کی جائے گی۔

پاکستان میں تعینعات امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے اسلام آباد میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات میں اس بات کی تصدیق کی ہے۔

امریکی سفیر نے بتایا کہ امریکہ کے سیکرٹری دفاع چگ ہیگل نے پاکستان کے لیے کولیش سپورٹ فنڈ کی مدد میں 35 کروڑ ڈالر جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔

وزرات خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ 35 کروڑ ڈالر کی یہ رقم فروری کے پہلے ہفتے میں ملنے کا امکان ہے۔

امریکہ کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ پر ہونے والے پاکستانی اخراجات کی ادائیگی کرتا ہے۔

وزراتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ 35 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کی قسط مالی سال 2012-2013 کی دوسری ششماہی میں کیے جانے والے اخراجات کی مد میں ادا کی جا رہی ہے۔

امریکہ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر اٹھنے والے اخراجات چار اقساط میں ادا کیے جاتے ہیں۔

رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو امریکہ کی جانب سے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر ملنا ہے تاہم پاکستان کو ابھی 30 کروڑ ڈالر ملے ہیں جب کہ دسمبر میں ملنے والے 35 کروڑ ڈالر اب آئندہ ماہ فروری میں ملنے کا امکان ہے۔

پاکستان کے وزیرِخارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کولیشن سپورٹ فنڈ کی ادائیگی میں تاخیر سے زرِمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کے قدر گھٹ رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی کانگریس نے نئے مالی سال کے لیے بجٹ کے مسودے میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے دی جانے والی رقم کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کیا ہے۔

امریکی بجٹ کے مسودے میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے اخراجات کی ادائیگی کی مدت کو ایک سال کے لیے بڑھانے کا بھی ذکر ہے۔ تاہم پاکستان کو اخراجات کی ادائیگی کے لیے رقم جاری کرنے کے لیے بھی کچھ شرائط رکھی گئی ہیں۔

ان شرائط کے تحت امریکی وزرائے خارجہ و دفاع کو امریکی کانگریس کو یہ بتانا ہوگا کہ پاکستان القاعدہ، تحريكِ طالبان پاکستان، حقانی نیٹ ورک اور کوئٹہ شوری کے خلاف کارروائی میں کیا مدد کر رہا ہے۔

انھیں کانگریس کو یہ یقین بھی دلانا ہوگا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے امریکی یا افغان فوج پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے کیا اقدامات اٹھا رہا ہے۔

امریکی سفیر رچررڈ اولسن نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستان اور امریکہ کے اقتصادی ورکنگ گروپ کا اجلاس رواں سال اپریل میں ہو گا۔

ملاقات میں امریکہ اور پاکستان کے مابین آئندہ ہفتے ہونے والے اسٹرٹیجک مذاکرت کا لائحہ عمل بھی طے کیا گیا۔

اسی بارے میں