’پولیو کے گڑھ پشاور‘ میں انسدادِ پولیو مہم ایک بار پھر موخر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پشاور شہر میں یہ مہم حالیہ دنوں میں دوسری بار موخر کی جا رہی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کی کمی کے باعث پشاور شہر میں انسدادِ پولیو مہم کو ایک مرتبہ پھر موخر کردیا گیا ہے۔

پشاور میں حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر برائے کمیونیکشن ڈاکٹر کلیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ شہر میں جلسے جلوسوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی کمی کے باعث آج یعنی اتوار سے شروع ہونے والا پولیو مہم موخر کردیا گیا ہے۔

پشاور میں پولیو مہم، اساتذہ کی مشروط شرکت

پشاور دنیا میں پولیو وائرس کا گڑھ ہے: عالمی ادارہ صحت

پشاور سمیت تین اضلاع میں پولیو مہم موخر

انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کےلیے تمام تر تیاریاں مکمل تھیں اور اس سلسلے میں تمام ٹیمیں متعلقہ علاقوں تک پہنچ بھی گئی تھیں لیکن رات گئے اچانک فیصلہ ہوا کہ شہر میں سکیورٹی ناکافی ہے اس لیے مہم کو ملتوی کردیا گیا ۔

ڈاکٹر کلیم کا کہنا تھا کہ پشاور میں آج ایک مذہبی جماعت کی طرف سے جلسہ بھی کیا جارہا ہے اور اس کے لیے بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں لہذا ایسی حالت میں یہ ممکن نہیں تھا کہ پولیو کے کارکنوں کو بھی سکیورٹی فراہم کی جائے۔

پشاور میں گزشتہ چند دنوں کے دوران یہ دوسری مرتبہ ہے کہ انسدادِ پولیو مہم کو ملتوی کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ پیر کو ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کیا گیا تھا تاہم سکیورٹی خدشات اور بعض دیگر وجوہات کی بناء پر پشاور، ہری پور اور چترال میں پولیو کے قطرے نہیں پلائے گئے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ پشاور دنیا بھر میں پولیو وائرس کا سب سے بڑا گڑھ ہے اور ملک میں 90 فیصد پولیو وائرس جنیاتی طور پر پشاور میں موجود وائرس سے جڑا ہوا ہے۔

پاکستان میں انسدادِ پولیو مہم میں شامل رضاکاروں اور ان کی حفاظت کے لیے تعینات سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ حملے ہوئے ہیں اور گذشتہ سال کے اعداد وشمار کے مطابق حملوں میں 17 افراد ہلاک اور 20 کے قریب زخمی ہوئے۔

ہلاک ہونے والوں میں خواتین رضاکاروں کے علاوہ سکیورٹی اہلکا بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی پولیو مہم کی ٹیموں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسی بارے میں