اگر حکومت سنجیدہ ہے تو پوزیشن واضح کرے: طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تحریک طالبان نے بنوں دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی

کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے ایک ہفتے میں اپنے تیسرے بیان میں مسلم لیگ کی حکومت پر مذاکرات کے نام پر سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر حکومت سنجیدہ ہے تو اپنی پوزیشن واضح کرے۔‘

گزشتہ ہفتے میں جاری ہونے والے یہ تینوں بیان کالعدم تنظیم کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو موصول ہوئے ہیں اور اتوار کو موصول ہونے والے تحریری بیان میں ایک مرتبہ پھر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ طالبان ہمیشہ سے مذاکرات کے لیے سنجیدگی سے تیار ہیں۔

ٹی ٹی پی کے ترجمان نے کہا کہ:’ طالبان نے بارہا یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان بامعنی، پائیدار اور سنجیدہ مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ طالبان کے پاس مولانا سمیع الحق کے قاصد سمیت جتنے بھی امن کے خواہاں وفود آئے، طالبان نے انھیں مثبت اور حوصلہ افزا جواب دیا، جبکہ حکومت کی طرف سے صرف میڈیا پر بیان بازی ہوتی رہی ہے، تاکہ عوام کو مغالطے میں ڈال کر حقیقت سے گمراہ کیا جاتا رہے۔

شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ حکومت مذاکرات سے متعلق پروپیگنڈے اور دھمکی کی سیاست کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا: ’حکومتی میڈیا نے مذاکرات کے حوالے سےتحریک طالبان کے رویے سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈے کیے۔ الزام تراشیوں اورخود ساختہ انکار کے بعد ایک بار پھر قبائلی عوام پر جنگ مسلط کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے، یہ ایک جنگی چال اور امریکہ کو خوش کرنے کا آسان طریقہ ہے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ کی موجودہ قیادت گزشتہ عام انتخابات کے دوران اور عنانِ اقتدار سنبھالنے کے بعد ہمیشہ ہی طالبان سے مذاکرات اور فوجی کارروائی نہ کرنے کی بات کرتی رہی ہے۔

اس دوران بنوں اور راولپنڈی میں فوجی جوانوں کو نشانہ بنانے کے بعد وزیرستان کے علاقے میر علی میں فوج نے بمباری کرکے اہم طالبان کمانڈروں سمیت چالیس طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس حملے میں تین جرمن اور 33 ازبک دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔

ان واقعات کے بعد سے طالبان کی طرف سے یہ مسلسل تیسرا بیان ہے۔

اسی بارے میں