’طالبان کےخلاف ایکشن کےحامیوں کو پذیرائی ملی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’اپنی جانیں دینے والے مسلح افواج کے افسران اور جوانوں ہمارے ہیرو ہیں اور ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا‘

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کی حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی اراکین کے اجلاس سے وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرنے والوں کو پذیرائی مل رہی ہے جبکہ بات چیت کے عمل کی حمایت کرنے والوں کو خاموشی کا سامنا ہے۔

حکمراں جماعت کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ’ہمیں غیر معمولی حالات کا سامنا ہے جو کہ سخت فیصلوں کا تقاضا کرتے ہیں۔‘

حکمراں جماعت کا اجلاس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے اتوار کو جاری کیےگئے بیان پر بحث کی گئی۔

اگر حکومت سنجیدہ ہے تو پوزیشن واضح کرے: طالبان

’جواب طالبان کو بھی دینا ہو گا کہ انھوں نے حملے کیوں کیے‘

مذاکرات کی بات ایک حربے سے زیادہ کچھ نہیں: طالبان

تاہم مسلم لیگ نواز کی جانب سے جاری کردہ بیان سے لگتا ہے کہ اجلاس میں طالبان کے ساتھ مذاکرات یا طالبان کی جانب سے کیےگئے حملوں کے بعد آپریشن کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے کہا کہ ’ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کا تحفظ کرنا ہے اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے بغیر پاکستان کو ترقی کی راہ پر نہیں لایا جا سکتا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں قیامِ امن و استحکام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ ’اپنی جانیں دینے والے مسلح افواج کے افسران اور جوانوں ہمارے ہیرو ہیں اور ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔‘

دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے بھی پیر کو ایک اور بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکو مت بھی ماضی کی حکومتوں کی روش پر چل پڑی ہے جنہوں نے ہمیشہ مذاکرات کو سیاسی اور جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے ’ہم واضح کرتے ہیں کہ مذاکرات کے نام پر الزام اور دھوکے کی سیاست کے بجائے سنجیدہ بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔‘

واضح رہے کہ اتوار کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر کہا تھا کہ پیر کو پارٹی کے اجلاس میں اس پیشکش کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا یہ سیاسی بیان ہے یا طالبان ملک کے آئین کے مطابق زندگی گزارنے پر تیار ہو گئے ہیں۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا تھا گذشتہ دنوں طالبان نے مسلح افواج، سکولوں، عبادت گاہوں اور عام شہریوں پر متعدد حملے کیے ہیں اور اب ایک دم ان کا ذہن بدلا ہے تو اس پر ہم پارٹی کے اعلیٰ اجلاس میں ضرور غور کریں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ کی موجودہ قیادت گذشتہ عام انتخابات کے دوران اور عنانِ اقتدار سنبھالنے کے بعد ہمیشہ ہی طالبان سے مذاکرات اور فوجی کارروائی نہ کرنے کی بات کرتی رہی ہے اور اس سلسلے میں کُل جماعتی کانفرنس کا بھی انعقاد کیا گیا تھا۔

دوسری جانب تحریکِ طالبان پاکستان کا موقف ہے کہ حکومتِ پاکستان متعدد بار مذاکرات کی بات کر چکی ہے تاہم وہ اس سلسلے میں سنجیدہ نہیں۔

اسی بارے میں