ملالہ کی کتاب کس نے روکی، عمران حیران، پریشان

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption باچا خان ایجوکیشن ٹرسٹ نے منگل کو ایریا سٹڈی سینٹر پشاور یونیورسٹی میں ملالہ یوسف زئی کی کتاب ’آئی ایم ملالہ‘ کی تقریب رونمائی منعقد کرنے کا پروگرام بنایا تھا

صوبہ خیبر پختونخواکی حکومت کی جانب سے ملالہ یوسف زئی کی کتاب کی تقریبِ رونمائی روکنے پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا ہے کہ وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ تقریب کیوں روکی گئی۔

واضح رہے کہ تحریکِ انصاف حکومت کی مداخلت پر پشاور یونیورسٹی میں ملالہ یوسف زئی کی کتاب کی تقریبِ رونمائی روک دی گئی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا: ’میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پشاور میں ملالہ کی کتاب کی رونمائی کیوں رکوائی گئی۔ پی ٹی آئی آزادیِ اظہار پر یقین رکھتی ہے نہ کہ سینسر شپ پر۔‘

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما شیریں مزاری نے بھی ٹوئٹر پر لکھا کہ تقریب رونمائی کو تقریب منعقد ہونے کی جگہ کے باعث روکا گیا۔

’خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے وضاحت کی ہے کہ پشاور میں ملالہ کی کتاب پر کوئی پابندی نہیں ہے، صرف تقریب کی جگہ کا مسئلہ تھا۔‘

یاد رہے کہ باچا خان ایجوکیشن ٹرسٹ نے منگل کو ایریا سٹڈی سینٹر پشاور یونیورسٹی میں ملالہ یوسف زئی کی کتاب ’آئی ایم ملالہ‘ کی تقریب رونمائی منعقد کروانے کا پروگرام بنایا تھا۔ ٹرسٹ کے مطابق صوبائی حکومت کی براہِ راست مداخلت پر یہ تقریب روک دی گئی۔

انھوں نے کہا کہ مذکورہ تقریب باچا خان ایجوکیشن ٹرسٹ، ایریا سٹڈی سینٹر اور سول سوسائٹی کی تنظیم ایس پی او کی طرف سے مشترکہ طور پر منعقد کی جانی تھی۔

باچا خان ایجوکیشن ٹرسٹ کے سربراہ خادم حسین کے مطابق پولیس کی طرف سے ان کو بتایا گیا کہ وہ سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے تقریب کا انعقاد روک دیا گیا ہے۔

پشاور پولیس کے سربراہ اعجاز خان نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی کہ بعض سکیورٹی خدشات کے باعث کتاب کی تقریبِ رونمائی روک دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ تقریب کے منتظمین کی طرف سے پولیس کو پہلے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بھی تقریب کے انعقاد پر بعض اعتراضات کیے گئے تھے جس کے باعث تقریب کی اجازت نہیں دی گئی۔

خیال رہے کہ ملالہ یوسف زئی کی کتاب ’آئی ایم ملالہ’ گذشتہ سال اکتوبر میں امریکہ اور برطانیہ میں شائع کی گئی تھی۔ یہ کتاب ملالہ یوسف زئی اور برطانوی صحافی کرسٹینا لیم نے مشترکہ طور پر لکھی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے نجی سکولوں کی ایک تنظیم آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کی طرف سے ملالہ یوسف زئی کی کتاب آئی ایم ملالہ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بھی کتاب فروخت کرنے والے دکان داروں کو دھمکیاں دی گئی تھیں۔

اسی بارے میں