’عمل داری تسلیم نہ کی تو بھرپور کارروائی ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جو لوگ دہشت گرد ہیں چاہے ان کا تعلق جہاں سے بھی ہو، انھیں زندہ رہنے کے لیے حکومت کی عمل داری کو تسلیم کرنا ہوگی ورنہ ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔

پاکستان کے امورِ خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ’دہشت گرد،‘ چاہے ان کا تعلق جہاں سے بھی ہو، انھیں حکومت کی عمل داری تسلیم کرنی ہوگی ورنہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

انھوں نے یہ بات منگل کو جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا کہ ’جو لوگ دہشت گرد ہیں چاہے ان کا تعلق جہاں سے بھی ہو، انھیں زندہ رہنے کے لیے حکومت کی عمل داری کو تسلیم کرنا ہوگی ورنہ ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔‘

’پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو دور کیا جائے‘

ڈرون حملے نہیں رکیں گے، سٹریٹیجک ڈائیلاگ بحال

پاکستان کے امورِ خارجہ کے مشیر کا کہنا تھا کہ کسی بھی کارروائی کے لیے ملک کی سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ جب کارروائی ہوگی وہ بلا امتیاز ہوگی اور بھر پور ہوگی۔

پاکستان نے حالیہ دنوں میں شمالی وزیرِستان میں کارروائی کے دوران دسیوں شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹریٹیجک مذاکرات پیر کو واشنگٹن میں تین سال کے تعطل کے بعد دوبارہ شروع ہوئے تھے جس میں شرکت کے لیے مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز امریکہ گئے ہیں۔

سرتاج عزیز نے پاکستان کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے امریکہ کے امدادی پروگرام کو تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

انھوں نے سٹریجٹیجک مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ’دفاعی مشاورتی گروپ کی بڑی اچھی میٹنگ ہوئی جس میں بے شمار چیزوں پر اتفاق ہوا جبکہ بعض چیزوں میں تاخیر بھی ہے۔‘

سرتاج عزیز نے کہا کہ جو ہمارے مختلف قسم کے آلات پر بات ہوئی ہے جن میں شدت پسندی کے خلاف استعمال ہونے والے آلات اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔

انھوں نے امریکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کا پاکستان کی صلاحیت کو بڑھانے کے پروگروام کو تیز کرنے کی ضرورت ہے اور ان سب معمالات پر بات ہوئی ہے۔‘

واشنگٹن میں پاکستان کے سفارتِ خانے کے بیان کے مطابق امورِ خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے منگل کو امریکہ کے سیکریٹری دفاع چک ہیگل سے پینٹاگون میں ملاقات کی جس میں پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف، سیکریٹری دفاع یاسین ملک، چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم احمد اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی نے بھی شرکت کی۔

اس ملاقات میں امریکہ کے فوج کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین مارٹن ڈیمپسی نے بھی شرکت کی۔

وفود نے دو طرفہ سکیورٹی معمالات پر بات چیت کرتے ہوئے مستقبل میں دفاعی شراکت کو مضبوط کرنے کے لیے اہم ترجیحات کی نشاندہی کی۔

سرتاج عزیز نے پیر کو سٹریٹیجک مذاکرات کے موقع پر خبردار کیا تھا کہ افغانستان سے اتحادی افواج کی انخلا کے بعد وہاں پر کسی بھی قسم کی عدم استحکام کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑے گا۔

پاکستان اور امریکہ کہ درمیان 2010 میں سٹریٹیجک مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، تاہم 2011 میں اسامہ بن لادن کی خفیہ کارروائی میں ہلاکت سمیت کئی واقعات دونوں ممالک میں تلخی کا سبب بنے اور یہ مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہو گئے۔

پاکستان نےسلالہ چیک پوسٹ پر امریکی ہیلی کاپٹرز کے حملے میں 24 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے تیل اور دوسری رسد کی فراہمی روک دی تھی۔ اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں امریکہ کے زیر استعمال شمسی ایئر بیس کو خالی کرایا گیا تھا۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے گذشتہ برس اگست میں پاکستان کے دورے کے موقعے پر مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں