طالبان کے خلاف کارروائی کا وقت آ گیا ہے: رانا ثنااللہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پنجاب کو محفوظ بنانے کے لیے صوبے کے پشتون آبادی کے 174 علاقوں میں کارروائی کی جائے گی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف کارروائی کا وقت آ گیا ہے اور پاکستان ہنگامی بنیادوں پر شدت پسند کارروائیوں میں اضافے کو روکنے پر مجبور ہے۔

برطانوی اخبار دی گارڈیئن کو انٹرویو میں انھوں نے کہا شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے لیکن یہ فیصلہ فوج کرے گی کہ کس قسم کا آپریشن کیا جائے۔

خیال رہے کہ حکومت نے حالیہ دنوں میں شمالی وزیرستان میں عسکری کارروائی کرتے ہوئے دسیوں شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

’دہشت گرد حکومت کی عمل داری تسلیم کریں ورنہ کارروائی ہوگی‘

فضل اللہ کے طالبان مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں: نثار

رانا ثنااللہ نے امریکی ڈرون حملوں کا بھی دفاع کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ڈرون حملوں سے دہشت گردوں کو نقصان پہنچا ہے۔‘ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ڈرون حملوں پر جان بوجھ کر شور مچایا جا رہا ہے: ’پسِ پردہ سب کو معلوم ہے کہ ڈرون حملے فائدہ مند ہیں لیکن باہر سب اس کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ ڈرونز امریکی ہیں۔‘

انھوں نے حکومت کی طرف سے شدت پسندی پر قابو پانے کے لیے گذشتہ ہفتے جاری ہونے والے متنازع تحفظ پاکستان آرڈیننس کا بھی دفاع کیا۔ اس قانون کو حزبِ اختلاف کے بعض سیاسی رہنما ظالمانہ قانون سمجھتے ہیں جو ملک کو ایک ’پولیس کی ریاست‘ میں تبدیل کر دے گا۔

اس قانون کے تحت پولیس کو بغیر وارنٹ کے چھاپے اور مشتبہ افراد کو تین مہینے تک حراست میں بغیر کسی الزام کے رکھنے کی اجازت ہے۔

پنجاب کے وزیرِ قانون اور حکمران جماعت کے اہم رکن رانا ثنااللہ نے کہا کہ ’اس قانون کو دس سال پہلے بننا چاہیے تھا۔ اگر اس کا پانچ فیصد بھی غلط استعمال ہو ہمیں تب بھی اس کی حمایت کرنی چاہیے۔اس کے بغیر آپ دہشت گردوں سے نہیں لڑ سکتے۔‘

مشتبہ افراد کو حراست کے دوران ٹارچر کرنے کے خدشے کے حوالے سے انھوں نے بتایا: ’میرے خیال میں جو بھی ہوگا، اتنا برا نہیں ہوگا جو گوانتانامو میں ہوا۔‘

گارڈیئن کے مطابق بہت سے تجزیہ کاروں کو اس پر شک ہے کہ پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن شدت پسندوں کے خلاف کبھی مربوط کارروائی کرے گی۔ ان کا موقف ہے کہ وہ صرف مراعات یافتہ پنجاب کو تشدد سے بچانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

اخبار کے مطابق پی ایم ایل کے رہنماؤں بشمول رانا ثنااللہ پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انھوں نے ماضی میں پنجاب کو محفوظ رکھنے کے لیے شدت پسند گروپوں کے ساتھ خفیہ معاہدے بھی کیے۔

لیکن رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنی نئی پالیسی اختیار کرنے کے لیے تین اہم عہدوں پر فائز افراد کے ریٹائر ہونے کا انتظار تھا۔ ان میں سابق صدر آصف علی زرداری، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور فوج کے سابق سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر جسٹس چوہدری افتخار اب عدالت میں ہوتے تو انھوں نے دوسری ہی دن تحفظِ پاکستان آرڈیننس کو رد کرنا تھا۔‘ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چھ سال تک پاکستانی فوج کے سربراہ رہنے والے جنرل اشفاق پرویز کیانی طالبان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے راضی نہیں تھے، تاہم عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جنرل کیانی عدم کارروائی کی وجہ سے مایوس تھے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ پنجاب کو محفوظ بنانے کے لیے پنجاب کے 174 علاقوں میں، جہاں پر پشتون آباد ہیں، کارروائی کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں خدشہ ہے کہ شدت پسندوں پنجاب میں جوابی کارروائیاں کریں گے۔‘

اسی بارے میں