متعصب عدلیہ نے غداری کا مقدمہ شروع کرایا: شریف الدین پیرزادہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پہلے مشرف کے وکلا کا موقف تھا کہ ایمرجنسی اُس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کے خفیہ خط پر لگائی گئی تھی جو اُس وقت کی عدلیہ کی رویے کے بارے میں تھا

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے کہا ہے کہ مارچ سنہ 2007 میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے درمیان اختلافات شروع گئے تھے اور 31 جولائی کا فیصلہ اسی تعصب کی عکاسی کرتا ہے۔

’مشرف مجرم ہے تو سزا دیں مگر سزا کسی کی خواہش پر نہ دیں‘

مشرف ’شریکِ جرم‘ افراد کےنام بتا سکتے ہیں: پراسیکیوٹر

بدھ کو سپریم کورٹ کے 31 جولائی سنہ 2009 کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست پر سابق صدر کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے عدلیہ کے تعصب کے بارے میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مارچ سنہ 2007 میں جب اُس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس بھیجا تھا، تبھی سے دونوں بڑوں کے درمیان اختلافات شروع ہوگئے تھے۔

اس پر چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا اس معاملے کو اس وقت افتخار محمد چوہدری کے سامنے اُٹھایا گیا تھا؟ اس پر شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ اس معاملے کو اُٹھایا گیا تھا، جس کی تمام بینچ نے تردید کی اور کہا کہ ایسی کوئی چیز ریکارڈ پر موجود نہیں ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے معاملے میں ججوں کے متعصب ہونے کا معاملہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے اُٹھایا گیا تھا جبکہ پرویز مشرف والے مقدمے میں ایسا نہیں ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے شریف الدین پیرزادہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا اس وقت کی عدلیہ کے متعصب ہونے کے بارے میں کوئی شواہد موجود ہیں جس طرح لاہور ہائی کورٹ کے ایک سابق جج (ملک قیوم) کے ٹیلی فون ٹیپ کیے گئے تھے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف تعصب رکھتے تھے؟

شریف الدین پیرزادہ کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس کے بعد پرویز مشرف اور افتخار محمد چوہدری کے درمیان اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ یہ محض ہوائی باتیں ہیں جس کی قانون کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے۔

بینچ میں شامل ایک اور جج ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ 31 جولائی کے فیصلے میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کس طرح دیگر 13 ججوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر پرویز مشرف کی یہ دلیل مان بھی لی جائے کہ اُس وقت کے چیف جسٹس متعصب تھے تو پھر بھی اکثریت کا فیصلہ ہی گراونڈ پر رہتا ہے۔

نظرثانی کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے پرویز مشرف کے وکیل ابراہیم ستّی نے کہا ہے کہ تین نومبر 2007 کی ایمرجنسی کا فیصلہ ان کے موکل کا تھا جو انھوں نے اپنے صوابدیدی اختیار کے تحت کیا۔

ایڈوکیٹ ابراہیم ستی نے کہا کہ ’پرویز مشرف نے 2007 میں ایمرجنسی اپنے صوابدیدی اختیار سے تحت لگائی تھی، حالانکہ اس وقت کے وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے ان کے سامنے محض سکیورٹی کی صورتِ حال کا تجزیہ پیش کیا تھا۔‘

ابراہیم ستی نے اپنے دلائل میں کہا کہ ’اس وقت عدلیہ کے علاوہ تمام ادارے آئین کے مطابق چل رہے تھے اور اس وقت کی اعلیٰ عدلیہ کے جج خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے تھے۔‘

ابراہیم ستی کے دلائل پر عدالت نے کہا ’آپ نے تو ہمارا مسئلہ ہی حل کر دیا ہے۔ کیونکہ غداری کا مقدمہ صرف پرویز مشرف کے خلاف ہی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مارچ سنہ 2007 میں ہی پرویز مشرف اور افتخار محمد چوہدری کے درمیان اختلافات شروع ہو گئے تھے: شریف الدین پیرزادہ

عدالت نے ان کی صاف گوئی کا شکریہ ادا کیا۔ابراہیم ستی نے کہا 1958 کے بعد جتنے مارشل لا لگے ان کی توثیق ہوتی رہی۔ جس پر عدالت کا جواب تھا ’آپ کے موکل نے فرض کر لیا تھا کہ ان کے اقدامات کی بھی توثیق ہوگی مگر ایسا نہیں ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا تین نومبر 2007 کے اقدامات کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ کے جس سات رکنی بینچ حکم جاری کیا تھا اس میں جسٹس رانا بھگوان داس شامل تھے، انہوں نے تین نومبر کے بجائے پانچ نومبر کو حکم نامے پر دستخط کیے۔

اس پر بدھ کو بینچ میں موجود جسٹس ناصر ملک نے کہا کہ ایسا نہیں ہے: ’میں بھی اس سات بینچ میں شامل تھا جس نے ایمرجنسی روکنے سے متعلق احکامات دیے تھے اور میری موجودگی میں ہی رانا بھگوان نے حکم نامے پر تین نومبر کو دستخط کیے۔‘

عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کو کل تک اپنے دلائل مکمل کرنے کو کہا ہے جس کے بعد اس نطرثانی کی اس درخواست سے متعلق فیصلہ سُنائے جانے کا امکان ہے۔ اس مقدمے کی سماعت 30 جنوری تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں