کوئٹہ: اتحاد علما کے سربراہ شیخ عبداللہ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شیخ عبداللہ ذاکری کا شمار ان افغان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنھوں نے روس کے خلاف جہاد کیا تھا

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے اتحاد علما افغانستان کے سربراہ شیخ عبداللہ ذاکری کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

سینئیر صحافی طاہر خان کے مطابق شیخ عبداللہ ذاکری پر موٹر سائیکل سوار مسلح حملہ آوروں نے بدھ کو مسجد کے قریب فائرنگ کر دی۔

شیخ عبداللہ ذاکری کے قریبی ذرائع نے بھی ان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

شیخ عبداللہ ذاکری کا شمار ان افغان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنھوں نے روس کے خلاف جہاد کیا تھا۔ انھیں افغانستان میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ انھوں نے امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کے خلاف فتوے بھی جاری کیے۔

شیخ عبداللہ ذاکری نہ صرف افغانستان کے موجودہ صدر حامد کرزئی کے خلاف تھے بلکہ بہت سے امور پر افغان طالبان کے دور حکومت میں ان کی بہت سی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے تھے۔

ان کی ہلاکت کو کوئٹہ میں گذشتہ ہفتوں کے دوران ہلاک ہونے والے افغان طالبان رہنماؤں کی ہلاکت کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

افغان طالبان کو شک ہے کہ یہ افغان انٹیلجنس کی کارروائی ہو سکتی ہے تاہم افغان حکومت کا موقف ہے کہ یہ ہلاکتیں طالبان کی اندرونی چپقلش کا نتیجہ ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے بہارہ کہو میں حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنما اور جلال الدین حقانی کے بیٹے نصیرالدین حقانی کی ہلاکت کی بات ہو یا پھر حالیہ دنوں میں کوئٹہ میں کم ازکم پانچ افغان طالبان کی ہلاکتیں پاکستان کی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بالکل خاموش ہیں۔

اسی بارے میں