کوہستان وڈیو: لڑکیوں کا آج تک پتہ نہیں، لڑکوں کے قاتلوں کو سزائیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد لڑکیوں کے رشتہ داروں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دورافتادہ ضلے کوہستان میں ایک مقامی عدالت نے رقص میں تالیاں بجاتی خواتین کے’وڈیو سکینڈل‘ کے منظر عام پر آنے کے بعد وڈیو میں نظر آنے والے لڑکوں کے تین بھائیوں کو قتل کرنے پر چھ ملزمان میں سے ایک کو سزائے موت اور پانچ کو عمر قید کی سزا کا حکم سنایا ہے۔

کوہستان کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سردار محمد ارشاد نے جمعرات کو مختصر فیصلہ سناتے ہوئے چھ ملزمان کو قتل کا مرتکب قرار دیا اور ان میں پانچ کو عمر قید جبکہ ایک ملزم کوسزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ سزا پانے والے ملزمان وڈیو میں نظر آنے والی خواتین کے رشتہ دار بتائے جاتے ہیں جن میں مختصر خان، اول خان، شمس الدین، طاؤس، مولانا یادوال اور جنتزخان شامل ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ سزا پانے والے ملزمان تین بھائیوں کے قتل میں ملوث پائے گئے تھے اور ان کے خلاف تقریباً ایک سال تک قتل کا مقدمہ چلتا رہا اور بالاآخر عدالت کی طرف سے ان کو سزا سنائی گئی۔ ان ملزمان نے خواتین کے وڈیو میں نظر آنے والے لڑکوں کے تین بھائیوں کو قتل کردیا تھا۔

خیال رہے کہ تقریباً دو سال قبل کوہستان میں ایک شادی کی تقریب کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں دو لڑکوں گل نذر اور بنیامین کو ڈانس کرتے ہوئے دکھایاگیا تھا جبکہ پانچ خواتین ان کے رقص پر تالیاں بجا رہی تھیں۔

بعد میں علاقے کے ایک جرگہ نے ویڈیو میں نظر آنے والے لڑکوں اور پانچ خواتین کو موت کی سزا سنائی تھی۔ تاہم لڑکے علاقے سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئے تھے جبکہ لڑکیوں کے بارے کچھ علم نہیں ہو سکا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا۔

عام خیال یہی ہے کہ انہیں بھی ان کے رشتہ داروں نے قتل کردیا تھا۔

اسلام آباد میں انسانی اور خاص طور پر خواتین کے حقوق کی ایک سرگرم کارکن فرزانہ باری نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی اطلاعات یہی ہیں کہ ان لڑکیوں کو ان کے رشتہ داروں نے قتل کر دیا تھا۔

تاہم مقامی انتظامیہ اور اس وقت کی صوبائی حکومت ایسے کسی واقعہ کی تردید کرتی رہی ہے۔

اسی بارے میں