لاڑکانہ: موئنجودڑو میں فیسٹیول کے خلاف مظاہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مظاہرین نے بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نعرے بازی کی

سول سوسائٹی کے اراکین نے سندھ حکومت کی جانب سے موئنجودڑو کے کھنڈرات میں ’سندھ کلچرل فیسٹیول‘ کے انعقاد کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔

ادھر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ موئنجودڑو کے کھنڈرات میں یکم فروری کو سندھ فیسٹیول کی تقریب کے انعقاد سے یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثہ قرار دیے جانے والی دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی باقیات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

پیپلز پارٹی کے نوجوان سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں اپنے آبائی صوبے سندھ کی ثقافت کے تحفظ کے لیے 15 روزہ مہم چلانے کا اعلان کیا تھا جس کا آغاز یکم فروری سے ہو رہا ہے۔

موئنجودڑو کے کھنڈرات کراچی سے 425 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں جنھیں 1922 میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ سر جان مارشل نے دریافت کیا تھا۔ یہ شہر دریائے سندھ کی قدیم تہذیب کے بڑے شہروں میں سے ایک تھااور اسے دنیا کا قدیم ترین شہر مانا جاتا ہے۔

فیسٹیول کے منتظمین نے ناقدین کی اس رائے کو رد کیا ہے کہ اس تقریب سے کھنڈرات کو نقصان پہنچے گا اور ان کا کہنا ہے کہ ہر ممکن احتیاط کی جا رہی ہے۔

سندھ کی وزیرِ ثقافت شرمیلا فاروقی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے افتتاحی تقریب میں بہت تھوڑے لوگوں، تقریباً 500 افراد کو دعوت دی ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ بڑا ہجوم ان کھنڈرات کو نقصان پہنچائے۔‘

اس مہم کی افتتاحی تقریب کی تیاریاں موئنجودڑو میں زور شور سے جاری ہیں اور اس کے لیے 2600 قبل مسیح میں تعمیر ہونے والے شہر کے کھنڈرات کے اوپر اور اردگرد لکڑی اور سٹیل کی مدد سے ایک بڑا سٹیج تیار کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Amar Guriro
Image caption موئنجودڑو کے کھنڈرات کراچی سے 425 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں جنھیں 1922 میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ سر جان مارشل نے دریافت کیا تھا

تاہم سول سوسائٹی کے اراکین نے لاڑکانہ کے شہر میں اس فیسٹیول کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ ان کو خدشہ ہے کہ پانچ ہزار سال پرانے ان کھنڈرات کو ان تقاریب سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔

کچھ ماہرین نے اقوام متحدہ کی آثارِ قدیمہ سے متعلق ادارے یونیسکو سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔

لاڑکانہ سے بی بی سی کے نامہ نگار شاہ زیب جلانی نے بتایا کہ مظاہرین نے بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نعرے بازی کی اور ان کے خلاف بینر اٹھا رکھے تھے۔

مظاہرے میں شامل عادل سولنگی نے کہا کہ ’موئنجودڑو اس دھرتی کے لوگوں کے لیے مقدس مقام ہے۔ اسے حکومتی فیسٹیولز کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

مظاہرے میں شامل ایک اور فرد خادم چانڈیو نے کہا کہ بلاول زرداری بھٹو کو ثقافتی ایمرجنسی کے بجائے سکولوں کو بہتر کرنا چاہیے اور امن و امان کی صوتحال پر غور کرنا چاہیے۔

ادھر سندھ کے محکمۂ آثارِ قدیمہ کے سربراہ اور موئنجودڑو کے آثارِ قدیمہ کے نگران قاسم علی قاسم کا کہنا ہے کہ اس تقریب سے کھنڈرات کو کوئی نقصان پہنچنے کا خدشہ نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ذاتی طور پر اس کام کی نگرانی کر رہا ہوں اور میرے خیال میں سٹیج کے ڈھانچے یا روشنیوں سے اس مقام کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔‘

اسی بارے میں