اگر رابطہ کیا تو کس نے کیا؟ ہم نے نہیں کیا: عرفان صدیقی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’میں نے کہا کہ ابھی فیصلہ نہیں کر سکتا جب تک مجھے یقین نہیں ہو جاتا کہ یہاں (اسلام آباد) میں مطالبات ماننے جا رہے ہیں‘

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع لال مسجد کے منتظم مولانا عبدالعزیز کے مطابق حکومت اور طالبان کی جانب سے مذاکرات کے عمل میں شامل ہونے کی پیشکش کی گئی ہے تاہم وہ اس وقت تک اس عمل میں شامل نہیں ہوں گے جب تک حکومت نظام شریعت کے نفاذ کے مطالبے پر سنجیدگی ظاہر نہیں کرتی۔

دوسری جانب طالبان سے مذاکرات کے لیے قائم کی گئی حکومت کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی نے کہا کہ صرف کمیٹی کے ارکان کو بات چیت کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے اور کمیٹی کے کسی نمائندے کی جانب سے مولانا عبدالعزیز سے کوئی رابط نہیں ہوا ہے۔

منتظم مولانا عبدالعزیز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنیچر کو حکومت اور طالبان دونوں جانب سے ان سے رابط کیا گیا ہے۔

’ملک کے اہم نمائندے نے فون کر کے کہا ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے حکومت سے تعاون کریں جبکہ طالبان کے ایک نمائندے کی جانب سے فون آیا اور انھوں نے کہا کہ ہماری شوریٰ کی رائے ہے کہ آپ اس عمل میں شامل ہوں۔‘

انھوں نے طالبان کو دیے جانے والے جواب کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ’میں نے کہا کہ ابھی فیصلہ نہیں کر سکتا جب تک مجھے یقین نہیں ہو جاتا کہ یہاں (اسلام آباد) میں مطالبات ماننے جا رہے ہیں۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ روز جمعے کو وزیر اعظم نواز شریف نے طالبان سے امن مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کو ہدایت کی تھی وہ فوری طور پر ان سے بات چیت کا آغاز کرے۔

اس کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی نے طالبان سے مذاکرات کے لیے جلد اپنے نمائندے چننے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان جہاں آسانی محسوس کریں گے وہیں ان سے بات چیت کی جائے گی۔

حکومت کے اہم نمائندے کے جواب کے بارے میں بات کرتے ہوئے مولانا عبدالعزیز نے کہا ’جب میں مطمئن ہوں گا کہ حکومت مطالبات کو پورا کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہے اور ان کو ماننے پر آمادہ ہے تو اسی صورت میں شامل ہوں گا، ورنہ ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ میں حکومت کو، طالبان کو اور خود کو بھی دھوکہ دوں۔‘

مطالبات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انہوں نے حکومتی اہم نمائندے کو یہ ہی کہا ہے کہ ’ملک میں اسلامی نظام، نظام شریعت کے نفاذ کا دیرینہ مطالبہ ہے، کیا اس کی طرف پیش رفت ہو گی؟ اور اگر اس سمت میں پیش رفت نہیں ہو گی تو پھر مذاکرات تو کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے لال مسجد آپریشن کیا تھا جس میں حکومت کے بقول شدت پسندوں نے پناہ لی ہوئی تھی اور اس آپریشن میں 103 افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں سکیورٹی فورسز کے 11 اہلکار بھی شامل تھے۔

لال مسجد کے واقعے کے بعد ملک میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہو گیا تھا اور بعض کی رائے میں یہ لال مسجد میں فوجی کارروائی کا ردعمل ہے۔

اسی بارے میں