صوابی میں جھڑپ،’چار شدت پسند ہلاک‘

(فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صوابی میں پولیو ٹیموں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں پولیس اور شدت پسندوں کے مابین جھڑپ میں چار شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ سنیچر کی صبح صوابی کے قصبے خان پور میں پیش آیا۔

ڈی پی او صوابی سجاد خان کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کی علاقے میں موجودگی کح اطلاع پر صبح پانچ بجے شاہ کولے بانڈہ میں آپریشن شروع کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا جب پولیس وہاں پہنچی تو شدت پسندوں نے اہلکاروں پر فائرنگ کر دی اور فائرنگ کا تبادلہ دوگھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہا۔

سجاد خان کے مطابق اس جھڑپ میں چار شدت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں ڈسٹرکٹ ہسپتال صوابی منتقل کر دی گئی ہیں جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔

تاحال ہلاک شدگان کی شناخت کے حوالے سے حکام نے کچھ نہیں بتایا ہے۔

واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی نائب امیر شیخ خالد حقانی کا تعلق بھی صوابی کے علاقے سے ہے۔

ان کے نائب امیر بننے کے بعد اس علاقے میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور متعدد بار اس علاقے میں پولیو ٹیموں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسی بارے میں