’ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے میڈیا ٹرائل کی مذمت کرتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’جماعت اور اس کے سربراہ الطاف حسین اور میڈیا ٹرائل کو مسترد اور اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں‘

متحدہ قومی موومنٹ نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات کے بارے میں بی بی سی کی حالیہ رپورٹ کے خلاف اور جماعت کے سربراہ الطاف حسین سے اظہار یکجہتی کے لیےمظاہرہ کیا ہے۔

اتوار کو کراچی کے ایم اے جناح روڑ پر ہونے والے اس مظاہرے میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔ بعض نوجوانوں نے ناکارہ ٹی وی سیٹ اٹھا رکھے تھے جن پر بی بی سی تحریر تھا، جس پر غصے کا اظہار کیا گیا۔

ُادھر لندن میں بی بی سی کے مرکزی دفتر کے سامنے بھی ایم کیو ایم کے کارکن احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔

مظاہرے میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور انھوں نے اپنی جماعت، پاکستان اور برطانیہ کے جھنڈے اٹھا رکھے ہیں۔

کراچی کے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ان کی جماعت اور اس کے سربراہ الطاف حسین اور میڈیا ٹرائل کو مسترد اور اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ برطانیہ کا بی بی سی ہو یا پاکستان کا بی بی سی، دونوں کی خوش فہمی اور غلط فہمی دور کر دیں گے، الطافی انقلابیوں کا یہ اجتماع غلط فہمیوں کو دریا برد کردے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ بی بی سی کی دستاویزی رپورٹ کے پہلے اور دوسرے حصے کے ذریعے ہونے والے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہیں۔

’ہم یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ اپنے خلاف اور اپنے قائد کے خلاف کردار کشی، رسوائی اور شدید مہم کے خلاف اپنے تمام جمہوری اور قانونی کو حق کو استعمال کیا جائے گا۔‘

ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان کا کہنا تھا کہ اگر دستاویزی فلم کو مکمل نشر کیا جاتا تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا، لیکن اس میں سینیٹر فروغ نسیم کا موقف توڑ مروڑ کر پیش کیا گیاہے، بقول ان کے لوگوں کو بدظن کرنے کی کوشش ناکام ثابت ہوگی۔

اس سے پہلے سنیچر کو ایم کیو ایم نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے نام بی بی سی کی جانب سے ایک دستاویزی فلم نشر کرنے کے خلاف ایک احتجاجی خط بھیجا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات کے بارے میں بی بی سی کی حالیہ رپورٹ کو ’بددیانتی‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے جمعرات 30 جنوری 2014 کو ادارے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں نشر کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ لندن میں میٹروپولیٹن پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے کئی بینک اکاونٹ بند کرتے ہوئے ٹیکس نہ دینے کے الزامات کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ متحدہ کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل اور منی لانڈرنگ کے الزامات پہلے ہی زیرِ تفتیش ہیں۔

’نیوز نائٹ‘ کی تازہ رپورٹ میں پہلی مرتبہ بتایا گیا کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں دو پاکستانیوں کو بھی شناخت کیاگیا ہے جو مبینہ طور قتل کی واردات کے فوراً بعد اسی شام ہیتھرو ایئرپورٹ سے سری لنکا پرواز کر گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق انھیں سری لنکا سے کراچی پہنچنے پر ہوائی اڈے کے رن وے پرگرفتار کیا گیا تھا۔

نیوز نائٹ کے مطابق پاکستانی حکام سے موصول ہونے والی دستاویزات میں ان دنوں کی شناخت محسن علی سید اور محمد کاشف خان کامران کے ناموں سے کی گئی ہے۔

یہ دونوں مطلوب افراد لندن پڑھنے کی غرض سے آئے تھے اور انھوں نے مشرقی لندن کے ایک کالج میں داخلہ لیا تھا۔

اسی بارے میں