حکومتی ٹیم کا طالبان کی کمیٹی سے وضاحتیں طلب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption طالبان کی مذاکراتی وفد کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے شرکت کی اور نہ ہی جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی رہنما مفتی کفایت اللہ نے

حکومتِ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے ساتھ باضابطہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے کچھ وضاحتیں طلب کی ہیں اور دونوں ٹیموں کے درمیان آج متوقع ملاقات ملتوی ہو گئی ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور سینئیر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے بتایا کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس منگل کو وزیرِاعظم ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ طالبان کی کمیٹی سے کچھ وضاحتیں مطلوب ہیں جن کے بعد ہی مذاکراتی عمل فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ حکومتی کمیٹی جاننا چاہتی ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کی جانب سے انکار کے بعد طالبان کسی اور کو بطور رکن نامزد کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے قبل ہمارے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ طالبان کی نو رکنی نگران کمیٹی کس طرح کام کرے گی، طالبان کی مذاکراتی کمیٹی اور طالبان کی نگران کمیٹی کے درمیان کیا روابط ہوں گے اور کیا طالبان کی نگران کمیٹی حکومت کی مذاکراتی کمیٹی سے بات کرے گی یا نہیں۔

رحمیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ حکومتی کی مذاکراتی کمیٹی نے یہ وضاحت بھی طلب کی ہے کہ ’طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کتنی باختیار ہے، اس کے پاس کیا مینڈیٹ ہےاور کیا یہ بڑے فیصلے کر سکتی ہے؟‘

انھوں نے کہا کہ یہ تمام وضاحتیں مل جائیں تو طالبان اور حکومت کی مذاکراتی کمیٹیاں مل کر بیٹھیں گی ورنہ ملنا لاحاصل ہی ہو گا۔

’حکومتی کمیٹی کو تو اختیار حاصل ہے، طالبان وفد کتنا بااختیار ہے؟‘

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جمعیت علمائے اسلام نے طالبان کے وفد کا حصہ بننے سے انکار کیا ہے۔

اس سے پہلے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رابطہ کار عرفان صدیقی نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ حکومتی اور طالبان کی مذاکراتی ٹیموں کی پہلی ملاقات اسلام آباد میں منگل کو دوپہر دو بجے ہو گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے بتایا تھا کہ طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے رکن اور جمعیت علمائے اسلام س کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے ان سے فون پر رابطہ کیا ہے۔

’مولانا سمیع الحق نے مجھے ٹیلی فون کیا اور نیک خواہشات کے ساتھ کہا کہ ہم آپ سے ملنے کے لیے آنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے مشاورت کے لیے وقت مانگا اور دوبارہ فون کر کے دو بجے ملنے کی تجویز دی۔‘

مولانا سمیع الحق کے ہمراہ طالبان کی جانب سے نامزد کیے گئے دیگر افراد کون ہوں گے؟ اس سوال پر عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ حکومتی ٹیم کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ طالبان کی جانب سے کون سی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے یا اس کی توسیع کی جاتی ہے۔

’مولانا سمیع الحق نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کی جانب سے کون آ رہا ہے۔‘

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی نے بتایا کہ میڈیا کو مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کرنے کا طریقہ کار دونوں ٹیمیں مشاورت سے طے کریں گی۔

طالبان نے کوئی شرط نہیں رکھی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ طالبان نے مذاکرات کے لیے کوئی شرط نہیں رکھی

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکراتی ٹیم میں شامل جمیعت علمائے اسلام س کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ طالبان نے مذاکرات کے لیے کوئی شرط نہیں رکھی۔

انھوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی کے ساتھ بات چیت کے بعد مذاکرات کے طریقۂ کار اور مقام کو حتمی شکل دی جائے گی۔

وہ اسلام آباد میں کمیٹی کے ارکان پروفیسر محمد ابراہیم اور مولانا عبدالعزیز کے ہمراہ صحافیوں سے باتیں کر رہے تھے۔

تاہم اس اجلاس میں نہ تو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے شرکت کی اور نہ ہی جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی رہنما مفتی کفایت اللہ نے شرکت کی۔

انھوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کے لیے حکومتی کمیٹی سے ملاقات کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس عمل کو جلد مکمل کرنے کے لیے ہر کوشش کی جائے گی تاہم اس وقت نظام الاوقات دینا ممکن نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہماری کمیٹی کا اجلاس کل یا ایک دن بعد ہو گا۔

’طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں شامل نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے مذاکرات کے حوالے سے ان کی جماعت سے کوئی مشاورت نہیں کی

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے مذاکرات کے حوالے سے ان کی جماعت سے کوئی مشاورت نہیں کی اور ان کی جماعت طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں شامل نہیں ہو گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کا مذاکراتی عمل سے کوئی تعلق نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت نے مذاکرات میں مدد مانگی تو وہ تعاون کریں گے تاہم مفتی کفایت اللہ جے یو آئی کا حصہ ہیں اس لیے وہ مذاکراتی کمیٹی میں شامل نہیں ہوں گے۔

’مفتی کفایت اللہ پارٹی کا فیصلہ ماننے کے پابند ہیں طالبان کی کمیٹی کا حصہ نہیں بنیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ طالبان خود ایک تنظیم ہیں انھیں اپنے تنظیمی ڈھانچے میں سے کسی کو منتخب کرنا چاہیے، اور اس سلسلے میں ’کچھ کنفیوژن نظر آتی ہے۔‘

عمران کا انکار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پی ٹی آئی کے بیان کے بیان کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ مذاکراتی عمل میں ہر ممکن مدد فراہم کرے

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے طالبان کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے تاہم مذاکراتی عمل کے لیے پانچ رہنما اصول وضع کیے ہیں۔

تحریک انصاف کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں طالبان کی جانب سے عمران خان کا نام طالبان کی مذاکراتی کمیٹی میں شامل کیے جانے پر کہا گیا ہے ’پی ٹی آئی اپنے چیئرمین پر اعتماد کیے جانے کی قدر کرتی ہے تاہم کور کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ چیئرمین مذاکراتی ٹیم کا حصہ نہیں بن سکتے۔‘

پی ٹی آئی کے بیان کے بیان کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ مذاکراتی عمل میں ہر ممکن مدد فراہم کرے۔

جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف طالبان کی جانب سے دس رکنی ٹیم کی تشکیل کا خیر مقدم کرتی ہے۔

طالبان سے براہ راست رابطہ

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مذاکراتی ٹیم میں شامل جماعت اسلامی کے پروفیسر محمد ابراہیم نے سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیر کو طالبان کی مذاکراتی وفد کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وفد طالبان کے رہنماؤں سے براہ راست ملاقات کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ ابھی تک طالبان کا جو بھی موقف ہے وہ ان کو میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے لیکن مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ طالبان رہنماؤں سے براہ راست ملاقات ہو تاکہ ان کا موقف جان سکیں۔

اسی بارے میں