کراچی: پولیس موبائل پر حملہ 4 اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں گزشتہ ایک سال میں فائرنگ اور بم دھماکوں میں 300 سے زیادہ پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں

کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں پولیس حکام کے مطابق پولیس موبائل پر حملے میں چار پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ان افراد پر حملہ علی اکبر گوٹھ میں خدا بخش ہوٹل کے قریب ہوا۔

ابراہیم حیدری کے ایس ایچ او امان اللہ مروت کا کہنا ہے کہ پولیس موبائل معمول کے گشت پر تھی جب دو موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں چار اہلکار اے ایس آئی افراز خان، کانسٹیبل دیدار علی، اختر اور شفیع محمد ہلاک ہوگئے۔

ان افراد کی میتیں جناح ہسپتال پہنچا دی گئی ہیں۔

ایس ایچ او امان اللہ مروت کا کہنا ہے کہ انہیں کسی قسم کی کوئی دھمکی موصول نہیں ہوئی تھی اور یہ کارروائی کراچی میں جو ٹارگٹ کلنگ جاری ہے اس کا سلسلہ لگتا ہے۔

یاد رہے کہ کراچی میں گزشتہ ایک سال میں فائرنگ اور بم دھماکوں میں 300 سے زیادہ پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس موقع پر سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ ’پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں پر ہونے والے یہ حملے ہرگز برداشت نہیں کیے جا سکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’دہشت گرد بزدلانہ طریقے سے پولیس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

29 جنوری کو کراچی ہی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں واقع سچل رینجرز کے ہیڈ کواٹرز پر ہونے والے خودکُش حملے میں دو رینجرز اہلکاروں سمیت تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے تھے۔

رینجرز کے حکام کے مطابق خودکُش حملہ آور کو بیرونی گیٹ پر روکا گیا تھا جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

یہ واقعات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب کراچی میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افرادکے خلاف ایک ٹارگٹڈ آپریشن گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے جس میں رینجرز اور پولیس حکام نے کئی ملزمان کو گرفتا کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

اسی بارے میں