حکومت طالبان مذاکرات: کون کیا کہہ رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حکومتِ پاکستان کی جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے نامزد کمیٹی کے رابطہ کار عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ طالبان کے مذاکراتی وفد کے ساتھ پہلی ملاقات منگل کی دوپہر دو بجے ہو گی۔

اس اعلان کے بعد کون کیا کہہ رہا ہے، اس کا ذیل میں جائزہ دیا گیا ہے:

’مولانا سمیع الحق نے مجھے ٹیلی فون کیا اور نیک خواہشات کے ساتھ کہا کہ ہم آپ سے ملنے کے لیے آنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے مشاورت کے لیے وقت مانگا اور دوبارہ فون کر کے دو بجے ملنے کی تجویز دی۔‘

حکومتی کمیٹی کے رابطہ کار عرفان صدیقی

’طالبان نے مذاکرات کے لیے کوئی شرط نہیں رکھی۔ حکومتی کمیٹی کے ساتھ بات چیت کے بعد مذاکرات کے طریقۂ کار اور مقام کو حتمی شکل دی جائے گی۔‘

طالبان مذاکراتی وفد کے ممبر مولانا سمیع الحق

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’طالبان نے اپنی جانب سے وکالت کے لیے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو نامزد کیا ہے۔ اب انھیں (عمران خان) ان کا مقدمہ لڑنا چاہیے کیونکہ وہ پہلے سے ہی اپنی تقریروں، دھرنوں اور جلسوں میں ان کی وکالت کرتے رہے ہیں۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید

’پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ مذاکرات ہی کے ذریعے ملک میں امن لایا جا سکتا ہے۔ اور اب تمام سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی کے موقف کی تائید کر رہی ہیں۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

’میں طالبان کی جانب سے بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی کا خیر مقدم کرتا ہوں اور خلوصِ نیت سے معاملات آگے بڑھانا چاہتا ہوں۔‘

وزیر اعظم نواز شریف

’وزیراعظم نے مذاکرات کے حوالے سے ہماری جماعت سے کوئی مشاورت نہیں کی اور ہماری جماعت طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں شامل نہیں ہو گی۔‘

جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان

’طالبان کے مذاکراتی وفد کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وفد طالبان کے رہنماؤں سے براہ راست ملاقات کرے گا۔ ابھی تک طالبان کا جو بھی موقف ہے وہ میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے لیکن مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ طالبان رہنماؤں سے براہ راست ملاقات ہو تاکہ ان کا موقف جان سکیں۔‘

طالبان کے وفد میں شامل جماعت اسلامی کے پروفیسر محمد ابراہیم

’مذاکرات کے عمل کو جلد مکمل کرنے کے لیے ہر کوشش کی جائے گی تاہم اس وقت نظام الاوقات دینا ممکن نہیں ہے۔‘

طالبان مذاکراتی وفد کے ممبر مولانا سمیع الحق

تصویر کے کاپی رائٹ

’جمعیت علمائے اسلام کا مذاکراتی عمل سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر حکومت نے مذاکرات میں مدد مانگی تو ہم تعاون کریں گے تاہم مفتی کفایت اللہ جے یو آئی کا حصہ ہیں اس لیے وہ مذاکراتی کمیٹی میں شامل نہیں ہوں گے۔ مفتی کفایت اللہ پارٹی کا فیصلہ ماننے کے پابند ہیں طالبان کی کمیٹی کا حصہ نہیں بنیں گے۔‘

جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان

طالبان کی جانب سے عمران خان کا نام طالبان کی مذاکراتی کمیٹی میں شامل کیے جانے پر: ’پی ٹی آئی اپنے چیئرمین پر اعتماد کیے جانے کی قدر کرتی ہے تاہم کور کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ چیئرمین مذاکراتی ٹیم کا حصہ نہیں بن سکتے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کور کمیٹی

طالبان نے پاکستان تحریک انصاف سے پوچھ کر مذاکراتی وفد میں نام شامل نہیں کیا تھا۔‘

پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں کہا

’پاکستان تحریک انصاف کہتی رہی ہے کہ طالبان پاکستانی ہیں اور جب انہوں نے مذاکراتی وفد میں نام شامل کیا تو ان کی دعوت قبول نہیں کیا۔‘

پاکستان مسلم لیگ نواز کے شیخ روحیل اصغر

اسی بارے میں