بات چیت کے آغاز پر ہی برا شگون؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومتی کمیٹی کے سرکردہ ممبر عرفان صدیقی صاحب کو یہ وضاحتیں لے کر ہی پیر کی شام مولانا سمیع الحق کو ملاقات کا وقت دینا تھا

امن مذاکرات کے حامی اور مخالفین سب کی نگاہیں منگل کو اسلام آباد میں امن مذاکرات پر تھیں لیکن معلوم نہیں اچانک کیا ہوا کہ نہ اجلاس ہوا اور نہ ہی مذاکرات۔

کیا اسے اس انتہائی اہم عمل کے آغاز پر برا شگون تصور کیا جائے؟ اس سے مذاکرات مخالف عناصر کی چاندی ہوگئی ہے جو پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ کون سے مذاکرات اور کون سا امن؟

’حکومتی کمیٹی کو اختیار حاصل، طالبان وفد کتنا بااختیار؟‘

سب شک کی نگاہ سے حکومت کو دیکھ رہے ہیں کہ اگر اس نے مناسب ہوم ورک نہیں کیا تھا تو اسے اجلاس طلب کرنے کی اتنی جلدی کیا تھی؟ اگر چار رکنی حکومتی کمیٹی کو وضاحتیں چاہیے ہی تھیں تو وہ اس اجلاس میں بھی بقول مولانا سمیع الحق کے حاصل کر سکتی تھی۔

ایک مرتبہ پھر میڈیا کے ذریعے طلب کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟ کیا یہ مذاکرات اسی طرح ذرائع ابلاغ کے ذریعے کرنے کا ارادہ ہے یا اس سے زیادہ اہم سوال کہ کرنے ہیں بھی یا نہیں؟

حکومتی کمیٹی کا اس سے کیا لینا دینا کہ طالبان کمیٹی میں تین رکن ہیں یا تین سو۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے منگل کو پھر ایک بیان میں واضح کر دیا کہ انہیں اس تین رکنی کمیٹی پر مکمل اعتماد ہے۔ تو پھر حکومت ملاقات کا وعدہ کر کے کیوں مکر گئی اور بقول مولانا سمیع الحق ان جیسے بوڑھے شخص کو اکوڑہ خٹک سے طلب کر کے ملاقات نہیں کی۔

حکومتی کمیٹی کا موقف ہے کہ طالبان کمیٹی واضح کرے کہ وہ فیصلے کرنے میں کتنی آزاد اور بااختیار ہے۔ یہ سوال تو طالبان سرکاری کمیٹی سے بھی کر سکتے ہیں کہ وہ کتنے بااختیار ہیں اور کیا خود ہی فیصلے کر سکتے ہیں۔ دونوں کمیٹیاں اگرچہ ایسا ظاہر نہیں کرنا چاہتی ہیں کہ دراصل ان کی حیثیت ایلچی کی ہے۔ انھوں نے ایک دوسرے کا پیغام آگے پہنچانا اور جواب لے کر آنا ہے۔ فیصلے تو یقیناً کہیں اور ہونے ہیں۔

حکومتی کمیٹی کے سرکردہ ممبر عرفان صدیقی صاحب کو یہ وضاحتیں لے کر ہی پیر کی شام مولانا سمیع الحق کو ملاقات کا وقت دینا تھا۔ لگتا ہے سرکاری کمیٹی نے اپنے اجلاس میں ان کے اس فیصلے کی توثیق نہیں کی کہ فوراً ملاقات کی جائے۔ اس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ افواہ ساز فیکٹریوں کو تازہ کام مل گیا ہے۔ کوئی تیسری قوت کی بات کر رہا ہے کہ وہ یہ امن نہیں چاہتی اور کوئی کہتا ہے کہ پاکستان حکومت اور فوج مذاکرات کو طول دے کر غیراعلانیہ جنگ بندی کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

بات ابھی تک یہی سمجھ میں آئی ہے کہ میڈیا میں آ کر مذاکرات کرنے کی بجائے فریق اگر اپنا ہوم ورک مکمل کر کے آمنے سامنے آئیں تو بہتر ہے۔

کمیٹی کے کسی رکن کو اگر چھینکنا ہے تو یہ کام تخلیے میں کر لے، ٹی وی پر آ کر نہیں۔ ٹی وی تک صرف فیصلے پہنچیں، دلائل و توجیحات نہیں۔

اسی بارے میں