پشاور: فائرنگ سے فقۂ جعفریہ کے رہنما ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption علی اصغر چائے کا کاروبار کرتے تھے

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے تاریخی بازار قصہ خوانی میں منگل کی صبح نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے تحریک نفاذِ فقۂ جعفریہ کے رہنما کو ہلاک کر دیا ہے۔

ایک مقامی پولیس اہل کار کے مطابق علی اصغر قصہ خوانی میں اپنی دکان پر جا رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے ان پر فائر کھول دیا۔

علی اصغر کو زخمی حالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ اس واقعے کے بعد بڑی تعداد میں شیعہ برادری کے لوگ ہسپتال پہنچ گئے۔

شیعہ رہنماؤں کے مطابق پشاور میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اس سال اب تک شیعہ افراد پر یہ چوتھا حملہ ہے جس میں تین افراد ہلاک اور ایک زخمی ہو چکے ہیں۔

امامیہ جرگہ کے رابطہ سیکریٹری اخوانزادہ مظفر نے بی بی سی کو بتایا کہ علی اصغر کی عمر 60 سال تھی اور وہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے صوبائی رہنما تھے۔

علی اصغر چائے کا کاروبار کرتے تھے، ان کی دکان قصہ خوانی میں تھی اورمنگل کی صبح ان پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اپنی دکان پر جا رہے تھے۔

اخوانزادہ مظفر نے بتایا کہ شیعہ افراد پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ انھیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے سکیورٹی ادارے کچھ نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ماہ چار افراد پر حملے ہو چکے ہیں جبکہ ان وارداتوں میں ملوث ملزمان اب تک گرفتار نہیں کیے گئے۔

اخوانزادہ مظفر نے کہا کہ پولیس کی تفتیش کا نظام ہی صحیح نہیں ہے جب کسی کے ساتھ ان کی دشمنی ہی نہیں ہے تو پھر وہ کیسے کس پر انگلی اٹھا سکتے ہیں، جبکہ پولیس ہر قتل کے بعد یہ کہتی ہے کہ آپ کو کس پر شک ہے یا آپ کسی کو اس میں نامزد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اس طرح کے واقعات کی تفتیش پولیس اپنے طور پر کر کے ملزمان کو گرفتار کرتی ہے۔

اس کے علاوہ منگل کی صبح سویرے ضلع چارسدہ کی تحصیل شبقدر میں ایک سکول میں دھماکہ کیا گیا ہے جس سے سکول کی عمارت کا ایک کمرا اور برآمدہ تباہ ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس سرکاری لڑکوں کے سکول میں ایک اور بم بھی موجود تھا جسے پولیس نے ناکارہ کر دیا۔

اسی علاقے میں چار روز پہلے لڑکیوں کے ایک سکول میں بھی دھماکہ کیا گیا تھا۔ دونوں دھماکے علی الصبح کیے گئے تھے جس وقت سکول میں کوئی موجود نہیں ہوتا اس لیے ان دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

خیبر پختونخوا اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کے دوران متعدد سکولوں کو تباہ کیا گیا ہے جس سے بیشتر علاقوں میں بچوں کا تعلیمی سلسلہ متاثر ہوا ہے۔

اسی بارے میں