پشاور: قصہ خوانی بازار میں دھماکہ، 8 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پشاور میں گذشتہ اتوار کو اسی علاقے میں واقع ایک سینما گھر میں دستی بم دھماکے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے قصہ خوانی بازار میں دھماکے کے نتیجے میں پولیس حکام کے مطابق 8 افراد ہلاک اور 42 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ قصہ خوانی بازار میں اہل تشیع کے اکثریتی علاقے کوچہ رسالدار میں واقع ایک ہوٹل کے قریب ہوا۔

پولیس نے علاقوں کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں شروع کی دی ہیں اور زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔دھماکے کے نتیجے میں متعدد دوکانوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ایس پی سٹی فیصل بختیار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ خودکش دھماکہ تھا لیکن ابھی حتمی طور پر اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

انھوں نے دھماکے کے ہدف کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا’دھماکے کے قریب امام بار گاہ اور پاک ہوٹل ہے اور ہلاک و زخمی ہونے والوں میں زیادہ اہل تشیع ہیں۔‘

منگل کو ہی قصہ خوانی بازار میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے تحریک نفاذِ فقۂ جعفریہ کے رہنما کو ہلاک کر دیا تھا۔

کوچہ رسالدار میں ایک امام بارگاہ واقع ہے اور یہاں کھانے پینے کی دکانیں ہونے کی وجہ سے شام میں کافی رش ہوتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جس ہوٹل کے قریب دھماکہ ہوا وہاں قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے آنے والے اہل تشیع قیام کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ دو دن پہلے اتوار کو اسی علاقے میں واقع ایک سینما گھر میں دستی بم کے دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پشاور میں اس سے پہلے بھی شدت پسندی کے متعدد واقعات میں عام شہریوں اور سکیورٹی حکام کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں