ٹانک: جھڑپ میں شدت پسند اور امن کمیٹی کے رضاکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ضلع ٹانک قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان ایجنسی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان واقع ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر ٹانک میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں امن کمیٹی کے ایک رضا کار اور ایک شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

ادھر شمالی وزیرستان میں ایک جھڑپ کے دوران چار افراد کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

ضلع ٹانک میں پولیس کے مطابق بدھ ا ور جمعرات کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز کے اہل کار اور امن کمیٹی کے رضا کاروں نے شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر چھاپہ مارا ہے جہاں رات گئے دونوں جانب سے شدید فائرنگ ہوئی۔

اس فائرنگ کے نتیجے میں ایک شدت پسند شاکر اللہ جبکہ امن کمیٹی کے ایک رضا کار حیدر جان ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہل کار زخمی ہوا ہے۔

خیبر پختونخوا کا جنوبی ضلع ٹانک جنوبی وزیرستان ایجنسی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان واقع ہے۔ ٹانک اکثر شدت پسندوں کے نشانے پر رہا ہے جہاں سکیورٹی فورسز پر حملے، خودکش اور بم دھماکے ہوتے رہے ہیں۔ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے واقعات بھی یہاں پیش آتے رہتے ہیں۔

ادھر پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں نامعلوم افراد کے درمیان جھڑپ میں چار افراد کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

حکام کے مطابق میر علی میرانشاہ روڈ پر تپی کے مقام پر بدھ کو رات گئے ایک گاڑی پر نامعلوم نقاب پوش افراد نے فائرنگ کی ہے۔ جس گاڑی پر فائرنگ کی گئی اس میں چار افراد سوار تھے جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ شدت پسندوں کے ایک گروپ کے کارکن تھے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس گاڑی میں ایک اہم کمانڈر بھی سوار تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے اس قدر فائرنگ کی کہ گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔

اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملہ آور کون تھے اور جن پر حملہ کیا گیا ہے وہ کس دھڑے سے تعلق رکھتے تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسندوں کے درمیان اندرونی اختلافات کا تنازع بھی ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں