مذاکرات: دونوں طرف شکوک وشبہات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایسا نہیں ہے کہ یہ اندرونی اختلافات صرف سرکار تک ہی محدود ہیں بلکہ طالبان شدت پسند بھی اسی قسم کی صورتِ حال سے دوچار نظر آتے ہیں

پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کی غرض سے مذاکرات کی کوشش کرنے والے فریقین کے اندرونی اختلافات حکومت اور طالبان شدت پسندوں کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خیال کیے جا رہے ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے ساتھ مذاکرات کے لیے حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے بارے میں ایسے شواہد مذاکرات کے آغاز پر ہی سامنے آ رہے ہیں کہ یہ دونوں فریق آپس کے اختلافات پر مکمل طور پر قابو نہیں پا سکے۔

تحریک طالبان کے ایک گروپ کی جانب سے پشاور حملے کی ذمہ داری قبول کرنا اور سرکاری کمیٹی کا مولانا سمیع الحق سے ملاقات کے اعلان کے فوراً بعد اس سے انکار کر دینا ظاہر کرتا ہے کہ دونوں فریقوں کے اندر اس مذاکراتی عمل کے بارے میں جو چپقلش چل رہی ہے، وہ ان مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی راہ میں حائل رہے گی۔

بعض سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ منگل کے روز دونوں مذاکراتی کمیٹیوں میں ملاقات عین وقت پر ایک ایسی سرکاری شخصیت کی مداخلت پر منسوخ کی گئی جو اس مذاکراتی عمل سے براہ راست منسلک بھی ہے۔

اس کمیٹی کے سرکاری رکن عرفان صدیقی نے اس مجوزہ ملاقات سے چند گھنٹے قبل ہی بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہیں عمران خان یا کسی اور کے اس کمیٹی میں ہونے یا نہ ہونے سے کوئی مطلب نہیں ہے: ’یہ اس کمیٹی کا اندرونی معاملہ ہے کہ کون اس میں شامل ہے اور کون نہیں، ہم اس کمیٹی کے تمام اور کسی بھی رکن سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔‘

تاہم چند گھنٹے بعد انہوں نے وضاحتیں طلب کر لیں اور مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں آنے والے طالبان کے نمائندہ وفد سے ملنے سے انکار کر دیا۔

شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے حامی اور اس معاملے میں وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مشاورت میں شامل رہنے والے صحافی سلیم صافی کہتے ہیں کہ جب تک حکومت اور ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان اس موضوع پر اختلاف رائے ختم نہیں ہوتا، یہ مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے بتایا کہ ’فوج پچھلے تیس سال سے شدت پسندی کے معاملے پر ڈرائیونگ سیٹ پر رہی ہے۔ اگر اب وہ کسی ایسے عمل سے لا تعلق ہو تو وہ کیسے کامیابی سے ہمکنار ہوگا؟ اس وقت زمینی حقیقیت یہ ہے کہ نہ طالبان کے ساتھ مذاکرات یا جنگ کے معاملے پر ریاستی ادارے ایک صفحے پر ہیں اور نہ ہی سیاسی قیادت کی سوچ میں ہم آہنگی نظر آتی ہے۔‘

ایسا نہیں ہے کہ یہ اندرونی اختلافات صرف سرکار تک ہی محدود ہیں۔ طالبان شدت پسند بھی اسی قسم کی صورتِ حال سے دوچار نظر آتے ہیں۔

وزیراعظم کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کے قیام سے چند منٹ قبل کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک اہم شدت پسند کمانڈر نے بی بی سی کے ساتھ ٹیلی فون پر خصوصی انٹرویو میں حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ٹی ٹی پی میں اپنے شدت پسند گروپ کی نمائندگی کرنے والے اس کمانڈر کا کہنا تھا کہ وہ ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت کی جانب سے مذاکرات میں شامل ہونے یا نہ ہونے سے قطع نظر اپنے طور پر اور اپنے گروپ کی طرف سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم اس خبر کے شائع ہونے سے قبل ہی وزیراعظم نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے کمیٹی قائم کر دی۔ اب وہی کمانڈر طالبان کی اس نو رکنی سیاسی شوریٰ میں شامل ہیں جو اس مذاکراتی عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ اس کالعدم تنظیم سے ہی تعلق رکھنے والے شدت پسند مفتی حسن سواتی نے بدھ کے روز پشاور میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ذمہ داری کی اس قبولیت سے کچھ دیر قبل ہی تحریک کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے نہ صرف اس دھماکے سے لا تعلقی کا اعلان کیا بلکہ اس کی مذمت بھی کی۔

سرکاری مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ مفتی حسن سواتی کے بیان کے بارے میں شاہد اللہ شاہد کی جانب سے وضاحتی بیان آنے سے پہلے کچھ کہنا نہیں چاہتے۔

ملک میں شدت پسند تنظیموں، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان پر تحقیق کرنے والے صحافی عامر میر کے مطابق اس گروپ کی مرکزی قیادت محسود اور ملا فضل اللہ کے حامیوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔

عامر میر نے کہا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے محسود قبیلے کے افراد ملا فضل اللہ کی جانب سے شروع کیے گئے مذاکرات کے حامی نہیں ہیں۔ وہ مذاکرات کے بجائے حکومت سے حکیم اللہ اور ولی الرحمٰن کے قتل کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ اسی لیے محسود قبیلے کا کوئی بھی شدت پسند مذاکراتی عمل کی نگرانی کرنے والی نو رکنی سیاسی کمیٹی میں شامل نہیں ہے۔‘

یاد رہے کہ تحریک طالبان کے ترجمان اندرونی تقسیم کی ان خبروں کی تردید کرتے رہے ہیں۔

مذاکرات میں شریک فریقین ایک دوسرے کے ساتھ اختلافی امور طے کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ ایسے میں ان کے آپس کے تعلقات میں پائے جانے والی دراڑیں اس مجموعی عمل پر کس طرح اثر انداز ہوں گی، اس کے آثار باضابطہ مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں