’آئین کی شرط منظور نہیں،‘ مذاکرات سے علیحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نہ صرف آئین بلکہ ملک کا عدالتی نظام بھی قرآن و سنت سے متصادم ہے:مولانا عبدالعزیز

حکومت سے امن مذاکرات کے لیے طالبان کی طرف سے نامزد کردہ کمیٹی کے رکن اور لال مسجد کے سابق خطیب عبدالعزیز نے مذاکراتی کمیٹی کے نکات میں شریعت کے نفاذ کی شرط کی شمولیت تک مذاکرات سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔

جمعے کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب تک مذاکرات میں شریعت کے نفاذ پر بات نہیں کی جاتی وہ مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔

مذاکرات کا اطلاق صرف شورش زدہ علاقوں پر

مذاکرات: دونوں جانب شکوک و شبہات

انھوں نے کہا: ’ہم مذاکرات سے علیحدہ نہیں ہوئے لیکن تب تک مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے جب تک حکومتِ پاکستان وعدہ نہ کرے کہ آئین پاکستان نہیں بلکہ قرآن اور سنت کی روشنی میں مذاکرات ہوں گے۔‘

عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ ’حکومت اسلامی یا شرعی نظام کے نفاذ کا وعدہ کرے گی تو میں مذاکرات کا حصہ بنوں گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں کمیٹی کا حصہ رہوں گا جب تک طالبان مجھے کمیٹی چھوڑنے کو نہیں کہتے مگر میں مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنوں گا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات کے لیے آئینِ پاکستان کی حدود کی شرط لگانے سے اس عمل میں تعطل پیدا ہوگا اور حکومت آئین میں رہتے ہوئے مذاکرات کرنا چاہتی ہے لیکن جن سے مذاکرات ہو رہے ہیں وہ اس آئین کو تسلیم نہیں کرتے۔

انھوں نے حکومتی مطالبات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نیک نیتی سے مذاکراتی عمل میں شامل ہوئے لیکن حکومت آئین کی شرط لگا رہی ہے۔

مولانا عبدالعزیز نے آئینِ پاکستان کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ صرف آئین بلکہ ملک کا عدالتی نظام بھی قرآن و سنت سے متصادم ہے۔

طالبان کمیٹی کے رکن کا کہنا تھا کہ ’اگر پاکستانی آئین اسلامی ہوتا تو طالبان کے ساتھ تنازع ہی شروع کیوں ہوتا؟‘ انھوں نے کہا کہ ’حکومت کیوں جنگ کی بات کرتی ہے اور ایسی بات کیوں کرتی ہے جس سے طالبان مطمئن نہ ہوں۔ طالبان کا ایجنڈا ہی اسلامی نظام کا نفاذ ہے تو آپ کیسے اسے نظرانداز کر سکتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے امن مذاکرات کے لیے بنائی گئی حکومتی کمیٹی نے جمعرات کو اپنے پانچ نکات پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ بات چیت مکمل طور پر آئینِ پاکستان کی حدود میں ہونی چاہیے۔

کمیٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ مذاکرات کا دائرہ شورش زدہ علاقوں تک محدود رہے گا اور یہ پورے پاکستان پر محیط نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب تحریک انصاف پاکستان کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے آئین پاکستان کے دائرے میں رہ کر مذاکرات کرنے پر آمادگی نے ان تمام لوگوں کے چہروں سے نقاب اٹھا دیا ہے جو طالبان کے تشدد کو شریعت کے نفاذ سے جوڑتے ہیں۔

جمعے کو جماعت کے میڈیا سیل کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں عمران خان نے یاد دہانی کرائی کہ اس سے پہلے پاکستانی فوج اور طالبان کے ساتھ ہونے والے نو معاہدوں میں بھی طالبان نے کبھی شریعت کے نفاذ کا ذکر نہیں کیا۔

بیان میں عمران خان نے کہا: ’میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ طالبان کی شدت پسندی امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف مزاحمت کا نتیجہ ہے جس کی تصدیق ایک مرتبہ پھر ہوگئی ہے کیونکہ طالبان کے دو اہم مطالبات میں امریکی جنگ سے علیحدگی اور ڈرون حملوں کی بندش شامل ہیں۔‘

اسی بارے میں