ایم کیو ایم کا یومِ سوگ منانے کا اعلان، ہڑتال کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ MQM
Image caption ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے تاجروں اور ٹرانسپورٹروں سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ سنیچر کو اپنا کاروبار بند رکھے کر یوم سوگ میں شریک ہوں

متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے خلاف سنیچر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

رکن قومی اسمبلی اور متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن سیدحیدرعباس رضوی نے کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے ایک کارکن محمد سلمان کی لاش کی تصویر دکھائی اور کہا کہ سلمان لاوارث نہیں ہے کراچی کے دو کروڑ عوام اس کے وارث ہیں۔

حیدر عباس رضوی نے الزام عائد کیا کہ کراچی میں آپریشن کا نشانہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو بنایا جا رہا ہے اور ان کے کارکنوں کا ماورائے عدالت قتل کیا جارہا ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے تاجروں اور ٹرانسپورٹروں سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ سنیچر کو اپنا کاروبار بند رکھ کر یوم سوگ میں شریک ہوں۔

ادھر سوگ کے اعلان کے بعد کراچی کی بعض تاجر اور ٹرانسپورٹ تنظیموں نے اپنا کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے کہا ہے کہ گزشتہ چار ماہ سے ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں اور ہمدردوں کے ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری ہے اور آج تک کسی بھی بے گناہ کارکن کے ماورائے عدالت قتل کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔

ایک اعلامیے میں الطاف حسین کا کہنا تھا کہ سلمان نورالدین کو سادہ لباس میں ملبوس سرکاری اہلکاروں نے 3 فروری کو ان کے بھانجے کے ہمراہ گرفتار کیا تھا اور منگل کے روز 4 فروری کو لانڈھی شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے میں ان کی تشدد زدہ لاش ملی۔

الطاف حسین کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کا ہمیشہ سے ہی یہ مؤقف ہے کہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھنے والا اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کومطلوب ہے تو اسے گرفتارکر کے عدالت میں پیش کیا جائے اور کسی بھی ملزم کے خلاف ماورائے آئین اور قانون اقدامات سے گریز کیا جائے اور شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جائے۔

انہوں نے وزیراعظم نوازشریف، وفاقی وزیر داخلہ چوھدری نثار علی خان، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان و ہمدردوں کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور اس میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔

بلاول بھٹو زرداری کا ہڑتال پر ردِعمل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ادھر صوبہ سندھ میں برسرِاقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں الطاف حسین سے استدا کی ہے کہ وہ اس یومِ سوگ کے موقعے پر ہڑتال کے اعلان کو منسوخ کر دیں۔

بلاول زرداری نے اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ انہیں ایم کیو ایم کے جائز خدشات سے ہمدردی ہے تاہم ایم کیو ایم کراچی میں اپنی حمایت کھو دے گی اگر وہ ہڑتالی سیاست سے شہر کو یرغمال بنا لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’انکل الطاف‘ سے درخواست ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے کارکنان کو بتائیں کہ کراچی کے عوام، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو ٹی وی پر دھمکیاں دینا الطاف حسین کا ’فلسفہِ محبت‘ نہیں ہے۔

بلاول بھٹو نے ایک پیغام میں کہا کہ وہ ایم کیو ایم کے اندر الطاف حسین مخالف عناصر کے بارے میں تنبیہ کر چکے ہیں اور یہ ہڑتال الطاف حسین کے خلاف بڑی سازش کا حصہ ہے۔

اس کے علاوہ ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے رکن واسع جلیل کی جانب سے پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری کو ’بے بی بھٹو‘ کہہ کر مخاطب کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں