آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کو قرضے کی راہ ہموار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گذشتہ سال ستمبر میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو نادہندہ ہونے سے بچانے کے لیے ساڑھے چھ ارب ڈالر سے زائد کے قرجے کی منظوری دی تھی

حکومتِ پاکستان کی جانب سے اقتصادی معاملات بہتر کرنے کے عملی اقدامات کے بعد پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ سے تقریباً پچپن کروڑ ڈالر قرض کی تیسری قسط ملنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

عالمی مالیاتی بینک کے مطابق سوائے بینک دولت پاکستان (سٹیٹ بینک آف پاکستان) سے قرض لینے کے ہدف کے، پاکستان نے تمام اہداف پورے کیے ہیں۔

اپنے اعلامیے میں آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے مرکزی بینک سے قرض لینے کے عمل کو بہتر اور اس کی حد معین کرنے کے لیے عملی اقدامات کا یقین دلایا گیا ہے۔

گذشتہ سال ستمبر میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو نادہندہ ہونے سے بچانے کے لیے ساڑھے چھ ارب ڈالر سے زائد کے قرجے کی منظوری دی تھی جسے تین سال کے دوران مختلف اقساط میں ملنا تھا۔

پاکستان کو اس سے پہلے گذشتہ سال نومبر اور دسمبر میں بالترتیب پہلی اور دوسری قسط مل چکی ہے۔

دبئی میں جاری دس روزہ مزاکرات کے بعد عالمی مالیاتی فنڈ کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت نے دسمبر دوہزار تیرہ کے آخر تک زیادہ تر اہداف حاصل کرلیے ہے سوائے سرکاری بینک سے قرضے لینے کے اور اس پر بھی کام ہورہا ہے۔

یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے مسلسل قرض لینے پر سٹیٹ بینک نے اپنی گزشتہ دونوں مالیاتی پالیسیز میں نکتہ چینی کی تھی جس کی وجہ سے حکومت ایک تناؤ بھی پیدا ہوگیا تھا جس کے بعد گورنر یاسین انور نے اپنے عہدے استعفٰی دے دیا تھا۔ اگرچہ انہوں نے استعفے کی نوعیت ذاتی وجوہات بتائیں تھی تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی بڑی وجہ حکومت کے ساتھ داخلی قرضوں کی حد پر اختلافات ہی تھے۔

پاکستان میں حکومت اور سٹیٹ بینک کے درمیان عموماً داخلی قرضے کی حد کی وجہ سے رسا کشی جاری رہتی ہے جسے عرفِ عام میں نوٹ چھاپنا کہتے ہیں۔

گذشتہ سال ستمبر میں عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے لیے تقریباًساڑھے چھ ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری دی تھی جو اسے تین سال میں مختلف اقساط میں ملنا تھا، جس کے لیے پاکستان کو کچھ اہم اقدامت کرنے تھے جیسے نقصان میں جانے والے اداروں کی نجکاری اور بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ۔

آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال میں پاکستان کی شرح نمو تین اعشاریہ ایک فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ اس سے پہلے یہ اندازہ دواعشاریہ آٹھ فیصد لگایا گیا تھا۔

اس موقع پر وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے محاصل میں چھبیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے جس سے آئی ایم ایف بہت مطمئین ہے۔

اسی بارے میں