شدت پسند حملوں کا شکار پولیس اہلکاروں کی حالت زار

Image caption بم حملے میں سید علی شاہ کے دونوں پاؤں کٹ گئے

پولیس اہلکار سید علی شاہ کے لیے آج کل زندگی گزارنا کسی آذیت سے کم نہیں۔ وہ چار سال پہلے پشاور میں ایک خودکش حملے کا نشانہ بنے جس کی وجہ سے وہ اپنے دونوں پاؤں سے محروم ہوئے۔

سید علی شاہ کے لیے اب مصنوعی اعضاء ہی سہارا ہیں تاہم ایسی صورتحال میں وہ محنت مزدوری نہیں کرسکتے، وہ چھ بچوں کے باپ بھی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب سے وہ معزور ہوئے ہیں محکمہ پولیس نے انہیں اس طرح نظر انداز کردیا ہے کہ جیسے وہ کبھی اس کا حصہ نہیں رہے۔

انہوں نے کہا ’میں نے اپنی جوانی پولیس کےلیے قربان کی اور یہاں تک فرائض کے بجا آوری کے دوران میرے دونوں پاؤں بھی کٹ گئے لیکن بدقسمتی سے محکمے کے تمام افسران اور قریبی دوستوں نے بھی منہ موڑ لیا ہے جن کے ساتھ کئی برسوں تک ایک تھالی میں کھایا پیا۔‘

سید علی شاہ کے مطابق ’معاشی پریشانیوں نے گھر میں بسیرا کیا ہوا ہے، میرا خاندان بھی بڑا ہے صرف تنخواہ پر گزارا نہیں ہوتا ایسے دن بھی آتے ہیں کہ بجلی کے بل اور مکان کا کرایہ تک ادا نہیں کرسکتے۔‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری مبینہ جنگ میں ڈیوٹی کے دوران اب تک 800 سے زائد پولیس اہلکار جان دے چکے ہیں جن میں سپاہی سے لے کر ڈی آئی جی رینک تک کے افسران شامل ہیں۔ تاہم مرنے والے اکثریتی اہلکار چھوٹے رینک کے بتائے جاتے ہیں جو عام طورپر غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

اکثر اہلکاروں کے اہل خانہ حکومتی وعدے پورے نہ ہونے پر انتہائی مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں۔

چار سال پہلے پشاور پریس کلب پر ہونے والے ایسے ہی ایک خودکش حملے میں پولیس کانسٹیبل ریاض الدین بھی ہلاک ہوئے تھے۔

ان کے صاحبزادے عزیر ریاض کا کہنا ہے کہ ’سابق دور حکومت میں شامل وزراء اور دیگر اہلکار کسی نہ کسی حد تک ان سے رابطے میں رہتے تھے اور ان کے مسائل بھی حل کراتے تھے۔ لیکن موجودہ حکومت کے وزراء تو مرنے والے اہلکاروں کے جنازوں میں بھی نہیں جاتے وہ شہداء کے ورثاء کی کیا امداد کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ان کے خاندان کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو چار سال گزرگئے لیکن اس کے باوجود وہ ایفا نہیں کیے گئے جس سے ان کا خاندان سخت مایوس ہوچکا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات محمکۂ پولیس لوگ ہی مرنے والے ساتھیوں کے ورثاء کو ملنے والی مراعات کے راہ میں روکاٹیں ڈالتے ہیں۔

پشاور کے سنئیر صحافی علی حضرت باچا نے بتایا کہ ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کو تیس لاکھ روپے، پلاٹ اور کفن دفن کےلیے بھی تین لاکھ روپے دیئے جاتے ہیں لیکن افسوس کہ اپنے ہی لوگ بیواؤں سے رشوت طلب کرتے ہیں۔

اکثر لوگ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ کسی ریاست کی بے حسی اس سے زیادہ اور کیا ہوگی جب وہ اپنے ہی لوگوں کی قربانیوں کی قدر نہ کرے اور ایسی صورتحال میں کوئی اور ریاست کی خاطر جان جیسی قیمتی قربانی کیوں کر دے گا۔

اسی بارے میں