ڈرون حملے کے متاثر کریم خان راولپنڈی سے ’لاپتہ‘

Image caption کریم خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے بھائی آصف اقبال اور بیٹے ذہین اللہ کی ہلاکت پر حکومت پاکستان پر مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ اس کیس کی سماعت آج یعنی 11 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونی ہے

بین الاقوامی تنظیم ’ریپریو‘ کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون طیارے کے حملے سے متاثر ہونے والے کریم خان کو نامعلوم افراد نے پانچ فروری کو اسلام آباد سے متصل شہر راولپنڈی سے اغوا کر لیا ہے۔

تنظیم کے مطابق کریم خان نے 15 فروری کو یورپی پارلیمنٹ کے سامنے ڈرون حملے کی تفصیلات بیان کرنا تھیں۔

ریپریو کے مطابق کریم خان کے اہلِ خانہ کے بقول پانچ فروری کو 15 سے 20 افراد راولپنڈی میں واقع ان کے مکان پر آئے اور ان کو زبردستی ساتھ لے گئے۔

اہلِ خانہ کے بقول یہ نامعلوم افراد پولیس کی وردی اور سادہ لباس پہنے ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ کریم خان نے ڈرون حملے میں اپنے بیٹے اور بھائی کی موت کے خلاف حکومتِ پاکستان کے خلاف بھی عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔

ریپریو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کریم خان کے اہلِ خانہ نے کئی بار پولیس سے رابطہ کیا لیکن کریم خان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔

کریم خان نے 15 فروری کو یورپی پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہونا تھا جہاں انہوں نے جرمن، ولندیزی اور برطانوی ممبران پارلیمنٹ کو ڈرون حملے کے بارے میں مطلع کرنا تھا۔

کریم خان نے ممبران پارلیمنٹ کو فری لانس صحافی کی حیثیت سے دیگر ڈرون حملوں کے بارے میں کی گئی تحقیقات سے بھی آگاہ کرنا تھا۔

واضح رہے کہ کریم خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے بھائی آصف اقبال اور بیٹے ذہین اللہ کی ہلاکت پر حکومت پاکستان پر مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ اس کیس کی سماعت آج یعنی 11 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونی ہے۔

کریم خان کے وکیل اور فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس کے ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ شرمناک بات ہے کہ میاں نواز شریف نے پاکستان کو پولیس سٹیٹ بننے کی اجازت دے رکھی ہے جہاں کسی بھی شہری کو بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ کریم خان نہ صرف خودہ متاثر ہیں بلکہ ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے کئی افراد کی آواز بھی ہیں۔

اسی بارے میں