’دہشت گرد اور پولیو مشترکہ دشمن ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption گزشتہ ماہ کراچی میں پولیو ورکروں پر فائرنگ کی گئی تھی جس میں دو خواتین سمیت تین رضاکار ہلاک ہوگئے تھے

سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ انسدادِ پولیو ٹیموں کی سکیورٹی بھی کراچی ٹارگیٹڈ آپریشن کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد، جرائم پیشہ عناصر اور پولیو قوم کے مشترکہ دشمن ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے طاقت کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔

کراچی میں منگل کو ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سید قائم علی شاہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تنبیہ کی کہ وہ انسدادِ پولیو ٹیموں کی سکیورٹی کے فول پروف اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ آئندہ کسی بھی انسدادِ پولیو ٹیم پر حملہ نہ ہوسکے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کراچی میں پولیو ورکروں پر فائرنگ کی گئی تھی جس میں دو خواتین سمیت تین رضاکار ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیو مہم کے انتظامات کے حوالے سے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہا کہ انسدادِ پولیو کی ٹیموں پر حملوں سے نہ صرف مہم متاثر ہوئی بلکہ اس سے حکومت کی بدنامی بھی ہو رہی ہے ۔

انھوں نے محکمۂ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ موبائل فکسڈ میڈیکل یونٹس کو بہتر طریقے سے فعال کر کے پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کی سو فیصد کوریج کو یقینی بنائیں۔

قائم علی شاہ کا کہنا تھا ’انسدادِ پولیو ٹیموں کی سکیورٹی کے حوالے سے اگر کوئی کوتاہی ہوئی تو متعلقہ ضلعے کا ایس ایس پی اس کا ذمہ دار ہوگا۔ پولیس حکام محکمۂ صحت سے رابطے میں رہیں اور انسدادِ پولیو کے ورکرز کا اعتماد بحال کریں۔‘

ایڈیشنل آئی جی پولیس شاہد حیات نے اجلاس کو بتایا کہ محکمۂ صحت سے باہمی مشاورت کے ساتھ فول پروف سکیورٹی پلان ترتیب دیاگیا ہے۔

انھوں نے اجلاس کو بتایا کہ وہ علاقے جہاں انسدادِ پولیو ٹیمیں اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں وہاں تین ہزار اہل کار تعینات کیے جائیں گے جب کہ ان علاقوں کے داخلی اور خارجی راستے مکمل طور پر بند ہوں گے۔

محکمۂ صحت کے ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر منظور زیدی نے اجلاس کو بتایا کہ پولیو وائرس کی حساسیت کے پیش نظر کراچی کو تین حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے جس میں کیٹگری ون میں آنے والے حصہ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور مئی سنہ 2014 تک کئی پولیو راؤنڈز کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کیٹگری ایک تا تین میں رہائش پذیر پانچ سال سے کم عمر ڈیڑھ لاکھ بچوں کو آٹھ ہزار کے قریب ولیو ورکرز کے ذریعے قطرے پلائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیو ٹیموں کو سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے نچلی سطح پر بھی پولیس افسران سے اجلاس کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب محکمۂ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ سنہ 2012 میں کراچی پولیو سے پاک تھا تاہم گزشتہ سال شمالی علاقوں سے نقل مکانی کر کے آنے والے لوگوں کے باعث کراچی میں پولیو کے آٹھ کیس رپورٹ ہوئے جب کہ سندھ کے دیگر علاقوں میں پولیو کے صرف دو کیس رپورٹ ہوئے۔

صوبائی محکمۂ صحت کے مطابق رواں سال میں ابھی تک پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تاہم بلدیہ کراچی کے لیے کیےگئے سیوریج نمونوں سے پولیو وائرس کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں