مشرف کیس: ’ملزم اپنی مرضی کی عدالت میں مقدمہ منتقل کروا سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرویز مشرف کے وکیل غداری کا مقدمہ فوجی عدالت میں منتقل کرنا چاہتے ہیں

پاکستان کی خصوصی عدالت میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کے دوران اُن کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا کہ جب ایک ہی مقدمہ سول اور فوجی عدالتوں میں چل رہا ہو تو ملزم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جس عدالت میں چاہے اپنا مقدمہ منتقل کروا لے۔

اُنھوں نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کا تقاضا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا مقدمہ متعلقہ فورم میں بھجوایا جائے اور متعلقہ فورم فوجی عدالت ہی ہے۔

خالد رانجھا نے کہا کہ جب ملک میں ایمرجنسی لگ جائے تو پھر تمام عدالتیں فوجی عدالتوں کے ماتحت ہوجاتی ہیں۔ اس پر خصوصی عدالت کی سماعت کرنے والی عدالت میں شامل جسٹس طاہرہ صفدر کا کہنا تھا کہ وہ 1977 کے ترمیمی ایکٹ کو ایک بار پھر پڑھ لیں جس میں کہا گیا ہے کہ اس شق کا اطلاق صرف اُنھی علاقوں میں ہوگا جہاں پر فوج سول انتظامیہ کی مدد کے لیے بُلائی جاتی ہے اور یہ شق صرف غیر فوجی افراد کو فوجی ایکٹ کے دائرے میں لانے کے لیے ہے۔

پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ سنہ 1952 کے آرمی ایکٹ میں غداری جیسے سنگین مقدمے کو بھی آرمی ایکٹ کے تحت لایا گیا ہے اور اس لیے فوجی اہلکاروں کو اس ایکٹ میں لانے کے لیے نئی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔

خالد رانجھا کا کہنا تھا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت غداری کے مقدمے کی سماعت نہیں ہوسکتی۔ اُنھوں نے کہا کہ اس ایکٹ میں یہ گُنجائش رکھی گئی ہے کہ جس شخص کے خلاف اس ایکٹ کے تحت کارروائی ہو رہی ہو تو اُس کے خلاف کسی دوسری عدالت میں کارروائی نہیں ہوسکتی۔

پرویز مشرف کے وکیل کے دلائل ختم ہونے کے بعد چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ ملزم کے وکیل جس ترمیمی ایکٹ 1977 کی بات کر رہے ہیں اُس کو لاہور ہائی کورٹ پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کالعدم قرار دیے جانے والے کسی بھی قانون کے تحت کسی بھی شخص کو ریلیف نہیں دیا جاسکتا۔

اس مقدمے کی دوبارہ سماعت 12 فروری ہو گی اور چیف پراسیکیوٹر اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

اسی بارے میں