مشرف کی جگہ مجھے پھانسی دے دیں: وکیل کی استدعا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رانا اعجاز نے کہا کہ عدالت اگر اُنھیں سزا دے گی تو یہ اُن کے لیے فخر کی بات ہوگی اور ویسے بھی وہ جیل کی ہوا کھانا چاہتے ہیں

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کے دوران اُن کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ پرویز مشرف کی بجائے اُن کو پھانسی دی جائے۔

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کی تو سابق فوجی صدر کی وکلا ٹیم میں شامل رانا اعجاز نے سماعت شروع ہوتے ہی کہا کہ وہ پرویز مشرف کے دوست ہیں اور اُن کے دور میں پنجاب حکومت میں وزیر قانون بھی رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کے دوست اس وقت مشکل میں ہیں، اس لیے دوستی کا تقاضا ہے کہ پرویز مشرف کی جگہ اُنھیں غداری کے مقدمے میں پھانسی یا پھر عمر قید کی سزا دی جائے۔ رانا اعجاز نے کہا کہ عدالت اگر اُنھیں سزا دے گی تو یہ اُن کے لیے فخر کی بات ہوگی اور ویسے بھی وہ جیل کی ہوا کھانا چاہتے ہیں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تو ملزم نے اعتراف جُرم بھی نہیں کیا تو پھر کس طرح اُنھیں ملزم کی جگہ پر پھانسی یا عمر قید کی سزا دی جائے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس خصوصی عدالت کا دائرۂ اختیار بہت محدود ہے اور اس مقدمے میں پرویز مشرف واحد ملزم ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ قانون میں ایسی کوئی گُنجائش نہیں ہے کہ جُرم سرزد کرنے کی سزا ملزم کی بجائے کسی اور کو دی جائے۔

اُنھوں نے رانا اعجاز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل نے عدالت کے دائرۂ سماعت اور ججوں کے متعصب ہونے کے خلاف درخواستیں دائر کر رکھی ہیں تو ایسی صورت میں جب ان درخواستوں کا فیصلہ بھی نہیں ہوا تو اُن کی خواہش کو حقیقت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے ملزم پرویز مشرف کی طرف سے غداری کا مقدمہ فوجی عدالت میں دائر درخواست پر جوابی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فوجی ایکٹ کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ فوجی عدالت میں نہیں بلکہ خصوصی عدالت ہی میں چلایا جائے گا اور متعلقہ عدالت کو اس مقدمے کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملزم کے وکلا نے آرمی ایکٹ کے تحت جن جرائم کا ذکر کیا ہے اُس میں سنگین غداری کا جُرم شامل ہی نہیں ہے۔

اکرم شیح کا کہنا تھا کہ سابق فوجی صدر کے وکلا نے اس قسم کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی دائر کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا اور عدالتی فیصلوں کو تسلیم کرنا تمام عدالتوں پر فرض ہے۔

اُنھوں نے کہ اگرچہ سابق صدر کے وکلا نے اس درخواست کے مسترد ہونے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹراکورٹ اپیل دائر کر رکھی ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ انٹراکورٹ اپیلوں پر فیصلہ ہونے تک پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت روک دی جائے۔ اس مقدمے کی سماعت 18 فروری تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

یاد رہے کہ عدالت نے پرویز مشرف کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم جاری کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں