مذاکرات اور شدت پسندی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے: چوہدری نثار

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption چوہدری نثار امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کراچی پہنچے ہیں

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ مذاکرات اور شدت پسندی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

ادھر طالبان سے مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم نے طالبان کی نمائندہ کمیٹی کو باضابطہ طور پر اپنے ردعمل سے آگاہ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ حالیہ دہشت گردی سے مذاکرات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

چوہدری نثار نے دورۂ کراچی کے دوران ہوائی اڈے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی بحالی ایک قومی مسئلہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم ایک طرف ان قوتوں کے خلاف سختی سے کاربند ہیں جو امن و امان میں خلل ڈالتی ہیں جب کہ مذاکرات کرنے والوں سے بھی بات ہو رہی ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف دہشت گردی کارروائی چلتی رہیں۔‘

طالبان سے امن مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی نے بھی جمعرات کو طالبان کمیٹی کو تحریر کردہ خط میں کہا ہے کہ دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں سے مذاکرات پر بُرے اثرات پڑ رہے ہیں اس لیے طالبان کو ایسی کارروائیوں کو روکنا ہوگا۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں حالیہ شدت پسندی کے واقعات کی وجہ سے حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہور ہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومتی اور طالبان کی کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں طالبان کی کمیٹی نے جو نکات پیش کیے تھے ان کی روشنی میں خط لکھا گیا ہے اور اس خط کے جواب کے بعد مشترکہ اجلاس طلب کیا جا سکتا ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کمیٹیوں کے پہلے مشترکہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ وہ میڈیا سے دور رہیں گے لیکن اس کے برعکس طالبان کے ترجمان روزانہ کی بنیاد پر میڈیا پر انٹرویو دے رہے ہیں جس سے مذاکرات پر اثر پڑ رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی طرف سے پیش کردہ نکات کو وزیر اعظم تک پہنچا دیا گیا ہے جس میں طالبان کی کمیٹی نے وزیراعظم سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

اس کے علاوہ ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومتی کمیٹی بھی طالبان کی شوریٰ سے ملاقات کرنا چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ طالبان کی طرف سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ قیامِ امن کی خاطر حکومتی کمیٹی کے ارکان کو کسی بھی وقت خوش آمدید کہہ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ طالبان کی کمیٹی کے دو رکنی وفد نے گذشتہ ہفتے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں طالبان شوریٰ سے مشاورت کی تھی۔

دوسری جانب پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جمعرات کو جاری کی جانے والی پریس ریلیز کے مطابق حکومت کی تشکیل کردہ امن مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس بدھ کی شب اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے چاروں ارکان عرفان صدیقی، میجر(ر) محمد عامر، رحیم اللہ یوسفزئی اور رستم شاہ مہمند شریک ہوئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں حکومتی کمیٹی نے طالبان شوریٰ سے ملاقات کرنے والے طالبان کمیٹی کے ارکان کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ پر تفصیلی غور کیا تاہم جاری ہونے والے اس بیان میں خط کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔

اسی بارے میں