کراچی:پولیس کے بعد اب رینجرز پر حملہ، دو زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دھماکے کے بعد رینجرز کے جوانوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے اور جمعہ کو ضلع شرقی میں رینجرز کے افسر کی گاڑی پر خودکش حملے میں دو اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ حملہ کورنگی سی ایریا میں قیوم آباد سے ساحلِ سمندر کی طرف جانے والی سڑک پر ہوا۔

جائے وقوع پر مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے ایس پی کورنگی نے بتایا ہے کہ رینجرز کے کمانڈر قیوم آباد سے ڈیفنس کی جانب جا رہے تھے کہ انھیں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

پولیس افسر کے مطابق خودکش دھماکے میں ان کی گاڑی کو جزوی طور پر نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس دھماکے میں دو اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جنھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد رینجرز کے جوانوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سڑک کو عام آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے خودکُش حملہ آور کے جسم کے اعضاء جمع کر کے تجزیے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔

کورنگی انڈسٹریل ایریا کے تھانیدار طارق رحیم خٹک نے بی بی سی اردو کے حسن کاظمی کو بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور بیس سے پچیس سال کی عمر کا تھا اور بم ڈسپوزل سکواڈ کا اندازہ ہے کہ حملے میں پانچ کلو کے قریب بارودی مواد ستعمال کیا ہے۔

علاقے کے تھانے کے ایک اور اہلکار کے مطابق جائے وقوع سے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے۔

ابھی تک دھماکے کا نشانہ بننے والے رینجرز کے افسر کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ رینجرز کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی رینجرز کے ترجمان میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔

تاحال کسی تنظیم کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

یہ دو دن میں کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر ہونے والا دوسرا حملہ ہے اور یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب حکومت اور طالبان کے درمیان قیامِ امن کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں رینجرز کو پہلے بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے

اس سے قبل جمعرات کی صبح ملیر کے علاقے میں پولیس کے تربیتی مرکز سے نکلنے والی بس کو ایک کار بم کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اس حملے میں 11 اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

کالعدم تحریکِ طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائی ان کے ساتھیوں کے پولیس اور رینجرز کے ہاتھوں مارے جانے کے انتقام میں کی گئی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان باقاعدہ جنگ بندی ہونے تک اس طرح کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

اس حملے کا مقدمہ بھی شاہد اللہ شاہد اور ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

ادھر پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ مذاکرات اور شدت پسندی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ جمعرات کو دورۂ کراچی کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ’یہ بات واضح ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف دہشت گردی کارروائی چلتی رہیں۔‘

خیال رہے کہ کراچی میں چند ماہ سے دہشت گردوں اور شرپسند عناصر کے خلاف آپریشن جاری ہے جس میں پولیس اور رینجرز دونوں حصہ لے رہے ہیں۔ اس آپریشن کے آغاز کے بعد سے شہر میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔

اسی بارے میں