’قیامِ امن کی ضمانت ملی تو ہی بات آگے بڑھے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یقین رکھیں کہ یہ مذاکرات بہت طویل نہیں ہوں گے: عرفان صدیقی

حکومتِ پاکستان کی جانب سے طالبان شدت پسندوں سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی سرکاری کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ ملک میں امن کا قیام مذاکراتی عمل کا بنیادی مقصد ہے اور اس کے حصول کے بغیر مذاکرات کا سلسلہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔

اسلام آباد میں جمعے کو بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو میں قومی امور پر وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی نے کہا کہ طالبان کی نمائندہ مذاکراتی کمیٹی سے آئندہ ملاقات میں یہ طے ہو جائے گا کہ شدت پسند مذاکرات کرنا چاہتے ہیں یا دہشت گرد کارروائیاں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر طالبان کی کمیٹی نے امن کے قیام کی ضمانت دی تو ہی بات آگے بڑھے گی۔ ہم اس کمیٹی سے دوبارہ رابطہ کریں گے تا کہ کسی حتمی نتیجے تک جلد از جلد پہنچ سکیں۔‘

عرفان صدیقی نے کہا کہ ’ہم مذاکرات کے ذریعے خواہشات کا جتنا بھی بڑا تاج محل کھڑا کر لیں، دہشت گردی کے ایک واقعے سے وہ لمحوں میں اڑ جائے گا۔ اس لیے مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے ان واقعات کا سلسلہ رکنا ہو گا۔ ہم خیالوں کی دنیا میں جنت نہیں بنا سکتے۔‘

عرفان صدیقی نے خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے کراچی میں پولیس اہلکاروں کی بس پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے، اس کی توجیح پیش کرنے اور اس طرح کے واقعات جاری رکھنے کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا۔

’حکومت اور اس کمیٹی نے اب تک دہشت گردی کے واقعات کے باوجود ضبط اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ ہم نے ان واقعات کی مذمت تک نہیں کی۔ لیکن ہمیں جواباً طالبان کی جانب سے مثبت اور حوصلہ افزا اشارے نہیں مل رہے۔‘

واضح رہے کہ جمعرات کو کراچی میں بس پر حملے کے بعد کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا تھا کہ یہ حملہ اس لیے کیا گیا ہے کہ حکومتی ایجنسیاں اور پولیس ان کے کارکنوں کو مبینہ جعلی مقابلوں میں ہلاک کر رہی ہیں۔

تاہم عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ اس سب کے باوجود اگر ملک میں قیام امن کی یقین دہانی کروائی جائے تو وہ اب بھی حالات کو بہتر کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ’طالبان کی جانب سے امن کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے خاتمے کے اعلان کے 24 گھنٹے کے اندر حکومت انہیں اعلانیہ یقین دہانی کروا دے گی کہ اس کی طرف سے بھی ایسی کارروائی نہیں کی جائے گی جو امن کے عمل کو نقصان پہنچا سکے۔‘

عرفان صدیقی نے دہشت گردی کے بعد مذاکراتی عمل کو ختم کرنے کے امکان کے بارے میں کہا کہ وہ ایسا تاثر نہیں دینا چاہتے کہ سرکار یا اس کی کمیٹی روٹھ کر بیٹھ گئی ہے ’لیکن یہ یقین رکھیں کہ یہ مذاکرات بہت طویل نہیں ہوں گے۔‘

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے دہشت گرد حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد مذاکرات کا عمل اور حکومت شدید دباؤ میں ہے جس سے آزاد ہونے کے لیے حکومت کو جلد از جلد کوئی فیصلہ کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں