’منافیِ امن کارروائیاں بند کریں ورنہ مشکل ہو گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یقین رکھیں کہ یہ مذاکرات بہت طویل نہیں ہوں گے: عرفان صدیقی

ملک میں قیام امن کے لیے حکومت اور طالبان کی طرف سے نامزدہ کردہ کیمیٹوں کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں دہشت گردوں کے حملوں کے لیے ’منافی امن‘ کارروائیوں کا لفظ استعمال کرتے ہوئے اس طرح کی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے کی بات کی گئی ہے۔

حکومت اور طالبان کی کمیٹیوں کا اجلاس جمعے کو اسلام آباد میں خیر پختوخوا ہاؤس میں منعقد ہوا، جس کے بعد ایک بیان جاری کیا گیا۔

بیان کے مطابق حکومتِی کمیٹی نے کراچی کے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’امن مخالف‘ کارروائیوں کے ہوتے ہوئے امن مذاکرات جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’طالبان کو فوری طور پر واضح اور دو ٹوک اعلان کے لیے کہا جائے کہ ہر قسم کی منافیِ امن کارروائیاں بلا تاخیر بند کی جا رہی ہیں اور اس اعلان پر موثر عمل کو بھی یقینی بنایا جائے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی نے حکومت کی کمیٹی کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت کو بھی ایسی کارروائیاں نہ کرنے کا واضح اعلان کرنا چاہیے جس سے اشتعال پھیلے اور پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی طرف سے طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔‘

حکومتی کمیٹی نے اپنے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے حوالے سے بیان میں اپنا موقف ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خلافِ امن کارروائیوں کے مؤثر خاتمے کے فوراً بعد دیگر اعتماد افزا اقدامات پر پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ پشاور اور کراچی میں حالیہ دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد کالعدم شدت پسند تنطیم تحریک طالبان پاکستان سے حکومتی مذاکرات کے بارے میں سوالات اٹھنا شروع ہوگئے تھے۔

مذاکرات کا دور اسلام آباد میں خیبر پختوانخوا ہاؤس میں ہوا جس میں حکومتی کمیٹی کے چار اراکان شامل تھے جبکہ طالبان کی جانب سے مولانا سمیع الحق، پروفیسر ابراہیم اور مولانا یوسف شاہ شریک ہوئے۔ پروفیسر ابراہیم اور مولانا یوسف شاہ نے تحریک طالبان سے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں طالبان سے ملاقات کی تھی۔

اس سے پہلے حکومتِی کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ ملک میں امن کا قیام مذاکراتی عمل کا بنیادی مقصد ہے اور اس کے حصول کے بغیر مذاکرات کا سلسلہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔

یاد رہے کہ کراچی میں جمعرات کو پولیس کی بس پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان نے دھمکی دی تھی کہ باقاعدہ جنگ بندی ہونے تک دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی جس کے بعد حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔

اسلام آباد میں جمعے کی صبح بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو میں قومی امور پر وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ طالبان کی نمائندہ مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات میں یہ طے ہو جائے گا کہ شدت پسند مذاکرات کرنا چاہتے ہیں یا دہشت گرد کارروائیاں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر طالبان کی کمیٹی نے امن کے قیام کی ضمانت دی تو ہی بات آگے بڑھے گی۔ ہم اس کمیٹی سے دوبارہ رابطہ کریں گے تا کہ کسی حتمی نتیجے تک جلد از جلد پہنچ سکیں۔‘

عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ ’ہم مذاکرات کے ذریعے خواہشات کا جتنا بھی بڑا تاج محل کھڑا کر لیں، دہشت گردی کے ایک واقعے سے وہ لمحوں میں اڑ جائے گا۔ اس لیے مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے ان واقعات کا سلسلہ رکنا ہو گا۔ ہم خیالوں کی دنیا میں جنت نہیں بنا سکتے۔‘

عرفان صدیقی نے خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے کراچی میں پولیس اہلکاروں کی بس پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے، اس کی توجیح پیش کرنے اور اس طرح کے واقعات جاری رکھنے کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

’حکومت اور اس کمیٹی نے اب تک دہشت گردی کے واقعات کے باوجود ضبط اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ ہم نے ان واقعات کی مذمت تک نہیں کی۔ لیکن ہمیں جواباً طالبان کی جانب سے مثبت اور حوصلہ افزا اشارے نہیں مل رہے۔‘

واضح رہے کہ جمعرات کو کراچی میں بس پر حملے کے بعد کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا تھا کہ یہ حملہ اس لیے کیا گیا ہے کہ حکومتی ایجنسیاں اور پولیس ان کے کارکنوں کو مبینہ جعلی مقابلوں میں ہلاک کر رہی ہیں۔

تاہم عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ اس سب کے باوجود اگر ملک میں قیام امن کی یقین دہانی کروائی جائے تو وہ اب بھی حالات کو بہتر کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ’طالبان کی جانب سے امن کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے خاتمے کے اعلان کے 24 گھنٹے کے اندر حکومت انہیں اعلانیہ یقین دہانی کروا دے گی کہ اس کی طرف سے بھی ایسی کارروائی نہیں کی جائے گی جو امن کے عمل کو نقصان پہنچا سکے۔‘

عرفان صدیقی نے دہشت گردی کے بعد مذاکراتی عمل کو ختم کرنے کے امکان کے بارے میں کہا تھا کہ وہ ایسا تاثر نہیں دینا چاہتے کہ سرکار یا اس کی کمیٹی روٹھ کر بیٹھ گئی ہے ’لیکن یہ یقین رکھیں کہ یہ مذاکرات بہت طویل نہیں ہوں گے۔‘

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے دہشت گرد حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد مذاکرات کا عمل اور حکومت شدید دباؤ میں ہے جس سے آزاد ہونے کے لیے حکومت کو جلد از جلد کوئی فیصلہ کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں