جیکب آباد:پٹڑی پر دھماکہ، بوگیاں الٹنے سے پانچ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں اس سال کے آغاز سے ہی ٹرینوں کو کم طاقت کے بموں کا نشانہ بنانے کے واقعات پیش آ رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع جیکب آباد میں ریلوے ٹریک پر دھماکے کے نتیجے میں ریل گاڑی کی بوگیاں الٹنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوگئے ہیں۔

اس حادثے میں خوشحال خان ایکسپریس کی پانچ بوگیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے اور ہلاکتوں کے بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

کراچی: ریلوے ٹریک پر بم دھماکہ، ایک بچی ہلاک

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق یہ واقعہ اتوار کو دوپہر ایک بجے کے قریب ضلع جیکب آباد کی تحصیل ٹھل میں پیش آیا اور دھماکہ اس وقت ہوا جب کراچی سے پشاور جانے والی خوشحال خان ایکسپریس اْنڑ آباد ریلوے سٹیشن سے گزر رہی تھی۔

حادثے کے بعد مقامی آبادیوں میں رہنے والے لوگ سب سے پہلے جائے وقوع پر پہنچے اور امدادی کارکنوں کی آمد تک امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

حادثے میں زخمی ہونے والے افراد میں عورتیں اور بچے بھی شامل جنھیں تحصیل ٹھل کے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے حادثے میں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک شدگان کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو ایک لاکھ روپے فی کس دیے جائیں گے۔

وزیرِ ریلوے نے بتایا کہ امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے دو ریل گاڑیاں جائے وقوعہ پر بھیج دی گئی ہیں جبکہ متاثرہ ٹرین کی بقیہ بوگیاں بھی منزل کی جانب روانہ کر دی گئی ہیں۔

عسکریت پسند تنظیم بلوچ رپبلکن آرمی نے اِس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ صرف اُن ہی بوگیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں سکیورٹی اہلکار سوار تھے۔

پاکستان میں اس سال کے آغاز سے ہی ٹرینوں کو کم طاقت کے بموں کا نشانہ بنانے کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

یہ اس سال میں دوسرا موقع ہے کہ خوشحال خان ایکسپریس کسی بم دھماکے کا نشانہ بنی ہے۔ اس سے قبل 14 جنوری کو اس ٹرین کو راجن پور کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا جس سے دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ گذشتہ ہفتے بھی کراچی کے قریب شالیمار ایکسپریس کے ٹریک پر دھماکے سے ٹرین کی آٹھ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں تھیں اور اس حادثے میں چھ ماہ کی ایک بچی ہلاک اور سات افراد زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں