طالبان کا ایف سی کے 23 اہل کاروں کو قتل کرنے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بیان میں کئی افراد کے نام درج ہیں جو طالبان کے دعوی کے مطابق 28 جنوری سے لے کر 15 فروری کے درمیان ہلاک کیے گئے

تحریکِ طالبان مہمند ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایف سی کے ان 23 اہل کاروں کو قتل کر دیا ہے جنھیں جون سنہ 2010 میں اغوا کیا گیا تھا۔

مہمند ایجنسی کے طالبان کی جانب سے جاری ہونے والا یہ بیان اتوار کو رات دیر گئے عمر خالد خراسانی کی طرف سے میڈیا کو ارسال کیا گیا۔

اس بیان کے مطابق ’اپنے ساتھیوں کے انتقام کی خاطر ہم نے آج ایف سی کے ان 23 اہل کاروں کو قتل کیا ہے جنھیں جون سنہ 2010 میں شونکڑی پوسٹ پر گرفتار کیا گیا تھا۔‘

حکومت کی طرف سے طالبان کے اس تازہ ترین بیان پر کسی ردِ عمل کا اظہار تاحال سامنے نہیں آیا۔ فوج کے پریس سے متعلق ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے اس خبر کی تصدیق نہیں کی گئی۔

یاد رہے جون سنہ 2010 میں ایسی خبریں آئی تھیں کہ ایف سی کے 40 اہل کاروں کو طالبان نے اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ اپنی پوسٹ پر موجود تھے۔

اتوار کو جاری ہونے والے بیان میں تحریک طالبان نے یہ بھی کہا ہے کہ ’اگر حکومت اپنی روش سے باز نہ آئی تو مستقبل میں ہمارا ردِ عمل اس سے بھی سخت ہو سکتا ہے۔‘

طالبان کے بیان میں کئی افراد کے نام درج ہیں جو ان سے وابستہ تھے۔ طالبان کے بیان میں کیے گئے دعوے کے مطابق ’ان ساتھیوں کو 28 جنوری سے لے کر 15 فروری کے درمیان ہلاک کیا گیا‘۔

یاد رہے حکومتِ پاکستان نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز 29 جنوری سے کیا تھا اور اس کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی بنائی تھی جوتحریکِ طالبان پاکستان کی ایک تین رکنی کمیٹی سے مذاکرات کر رہی ہے۔

اسی بارے میں