ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت پر فوج کیوں خاموش ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور مذاکرات کی نگرانی کے لیے بنائی گئی نو رکنی شوریٰ کے کے ایک اہم رکن عمر خالد خراسانی نے دو سال قبل اغوا کیے گئے 23 ایف سی اہل کاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے

تحریکِ طالبان مہنمد ایجنسی کی جانب سے اتوار کی رات ایف سی اہلکاروں کو قتل کیے جانے کے دعوے کے بعد پیر کو طالبان اور حکومت کی مذاکراتی کمیٹیوں کی ملاقات ملتوی ہو گئی۔

حکومتی کمیٹی، وزیراعظم اور صدر کی جانب سے الگ الگ بیانات آئے اور پاکستان کے ایوانِ بالا میں موجود سیاسی جماعتیں بھی حکومت سے سوال کرنے لگیں کہ مذاکرات کی اب کیا افادیت رہ گئی ہے لیکن اس تمام صورت حال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے فریق یعنی پاکستان کی فوجی نے چپ سادھ رکھی ہے۔ فوج کا شعبۂ تعلقات عامہ بھی خاموشی میں لپٹا نظر آ رہا ہے۔

کیا وجہ ہو سکتی ہے؟

بی بی سی نے پاکستان کے سابق دفاعی تجزیہ نگاروں سے یہ سوال پوچھا تو سینیئر تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) اسد منیر کہتے ہیں کہ طالبان کو فوج جتنا کوئی نہیں جانتا۔

’فوج جب بیان دیتی ہے تو لوگ شور مچا دیتے ہیں کہ فوج وزیراعظم کے ماتحت ہے اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ میرے خیال سے فوج نے کچھ ریڈ لائینز رکھی ہیں کہ جب تک کوئی ان آخری حدوں سے آگے نہیں جاتا فوج کچھ نہیں کرے گی۔‘

جنرل (ریٹائرڈ ) عبدالقیوم نے اس تاثر کو رد کیا کہ فوج خاموش ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فوج کو آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان جاری کرنے کی ضرورت نہیں۔

جنرل (ریٹائرڈ) عبدالقیوم نے کہا کہ افواجِ پاکستان مختلف علاقوں میں تعینات اور پوری طرح تیار ہیں لیکن فوج کے استعمال کا آپشن آخری آپشن ہو تا ہے۔’ فوج حکومت کے ساتھ ہے، یہ سیاسی فیصلہ ہو گا کہ حکومت نے کیا کرنا ہے اور اس پر افواجِ پاکستان لبیک کہیں گی۔‘

سابق گورنر سندھ جنرل (ریٹائرڈ) معین الدین حیدر کے مطابق فوجی کی خاموشی کی وجہ یہ ہے کہ ’فوج حکومت کو مذاکرات میں ساتھ دینے کا کہہ چکی ہے اور بار بار بیانات دے کر صورت حال کو کنفیوژن کی طرف لے کر لے جانا نہیں چاہتی۔‘

سابق سیکریٹری فاٹا بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ کی رائے بھی کچھ مختلف نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ فوج ابھی سوچ رہی ہے: ’فوج صورت حال کا مطالعہ کر رہی ہے، ہو سکتا ہے وہ بیان بھی جاری کرے۔ ہو سکتا ہے طالبان نے دھمکانے کے لیے ایف سی اہل کاروں کی ہلاکت کا دعوی کیا ہو۔ میرے خیال میں ایک دم ردعمل دنیا مناسب نہیں ہوگا۔‘

یہاں ایک سوال اور بھی ہے کہ کیا کسی ممکنہ جنگ بندی کی صورت میں فوج اور سکیورٹی ادارے اس فیصلے کے سامنے اپنا سر جھکا دیں گے؟

بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) اسد منیر کا خیال ہے کہ جنگ بندی ہو ہی نہیں سکتی: ’میرے خیال میں تو جنگ بندی نہیں ہو گی کیونکہ شدت پسندوں کا کوئی ایک گروپ نہیں ہے، مہمند ایجنسی کے طالبان نے ایف سی اہل کارورں کو قتل کر کے یہ پیغام دیا کہ وہ نہیں مانیں گے، لشکریِ جھنگوی اور باجوڑ والے بھی نہیں مانیں گے۔‘

تاہم جنرل (ریٹائرڈ) قیوم کہتے ہیں کہ حکومت بہت احتیاط پسندی سے چل رہی ہے لیکن حملے کی صورت میں فوج اپنے دفاع کا حق رکھتی ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’جنگ بندی دو ملکوں کے درمیان ہوتی ہے، یہاں تو دہشت گردی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ بات مذاکرات سے حل ہو لیکن جہاں ضرورت ہوگی فوج کا محدود استعمال کیا جائے گا۔‘

بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) معین الدین حیدر پر امید ہیں کہ جنگ بندی سے حالات بہتر ہو سکتے ہیں: ’جنگ بندی ہوئی تو پھر دونوں جانب سے تحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا لیکن یہ سب مذاکرات ہونے کی صورت میں ہی طے ہو سکےگا کیونکہ ملک کے مفاد کے خلاف باتیں نہیں مانی جاسکتیں۔‘

حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات ہوئے ماضی میں بھی ہوئے، تاہم بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) اسد منیر بتاتے ہیں کہ ماضی کے معاہدے مختلف تھے۔ ایک گروپ کے ساتھ معاہدہ ہوتا تھا اور دوسرے کے ساتھ جنگ، لیکن اب جو بات چیت ہو رہی ہے وہ ملک کے امن کے لیے ہو رہی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ یہ مسلہ پیچیدہ ہے لیکن حکومت اس کی گہرائی میں نہیں جا رہی: ’ کمیٹی یہ نہیں سوچ رہی القاعدہ کدھر جائےگی؟ حقانی کدھر جائیں گے؟ گل بہادر کا کیا ہوگا؟ حکومت نے اس معاملے کو بہت آسان سمجھا تھا۔‘

سابق سیکریٹری فاٹا بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ کے مطابق فوج چاہتی ہے کہ پہلے منتخب حکومت اس سارے معاملے کی اونر شپ لے، اس کے بعد فوج کو کارروائی کرنے کا کہے۔

اسی بارے میں