کراچی: مشترکہ کارروائی میں 2 مشتبہ شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ اس علاقے میں مشتبہ افراد موجود ہیں جو کسی دہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کررہے ہیں

کراچی کے علاقے گلشنِ بونیر میں پیر کی صبح پولیس اور رینجرز کی ایک مشترکہ کارروائی دو افراد ہلاک ہوگئے جن کے بارے میں پولیس کا یہ دعوٰی ہے کہ وہ کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتے تھے۔

تھانہ قائدآباد کے اہلکار احمد عاصم نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ اس علاقے میں مشتبہ افراد موجود ہیں جو کسی دہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

’اطلاع ملنے پر پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا تو ایک احاطے میں موجود دو مسلح افراد کی جانب سے مزاحمت کی گئی۔‘

احمد عاصم کے مطابق ان افراد نے دو دستی بم بھی پھینکے جس سے رینجرز کے دو اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ پولیس کا ایک اے ایس آئی بھی زخمی ہوا۔ جس کے جواب میں پولیس اور رینجرز کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس سے دونوں افراد ہلاک ہوگئے۔

پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے ایک ہینڈ گرینیڈ، ایک ٹی ٹی پستول، ایک کلاشنکوف اور ساٹھ گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔

پولیس کے مطابق مرنے والے افراد کی لاشیں کراچی کے جناح ہسپتال منتقل کردی گئی ہیں جہاں ان کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔

ابھی تک مرنے والے ان دونوں افراد شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ احمد عاصم کا کہنا ہے کہ جب تک ان کی شناخت نہ ہوجائے یہ بتانا ممکن نہیں ہوگا کہ ان افراد کا تعلق کس تنظیم سے تھا۔

انہوں نے مقامی میڈیا میں آنے والی اس خبر کی تردید کی یہ دونوں افراد تحریکِ طالبان پاکستان سے تعلق رکھتے تھے اور رزاق آباد بس حملے میں ملوث تھے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ ایسا ممکن ہوسکتا ہے مگر پولیس کی جانب سے ایسی کوئی بات نہیں کہ گئی ہے۔

اسی بارے میں