طالبان کے سابق وزیر پشاور میں قتل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پشاور کے مضافاتی علاقے میں چند دن قبل نو افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا

پشاور میں طالبان اور کرزائی حکومت کے درمیان مذاکرات کے حامی طالبان کے سابق وزیر مولوی عبدالرقیب کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی پشتو سروس کے نامہ نگار صحافی طاہر خان کے مطابق افغان ذرائع نے مولوی عبدالرقیب زخاری کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ تاہم پشاور پولیس نے واقعہ کی تصدیق ضرور کی ہے لیکن ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

مولوی عبدالرقیب زخاری کا نام ان افراد میں شامل ہے جو ملا عمر کے قریبی ساتھی معتصم آغا خان کے ساتھیوں میں سے تھے۔ معتصم آغا نے حالیہ دنوں میں ایک سیاسی تحریک شروع کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ وہ صدر حامد کرزئی کی حکومت اور بین الفغانی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

طاہر خان کے مطابق مولوی عبدالرقیب نے اس سیاسی تحریک کے دبئی میں ہونے والے اجلاسوں میں شریک رہے ہیں البتہ گزشتہ ہفتے کے اجلاس میں وہ شریک نھیں تھے۔ اس اجلاس میں معتصم آغا نے مفاہمتی عمل کا باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ افغان طالبان حامد کرزئی کی حکومت اور دیگر افغان گروپوں کے ساتھ بات چیت کے مخالف ہیں۔

31 سالہ مولوی عبدالرقیب زخاری ان چند طالبان رہنماؤں میں شامل ہیں جو قومیت کے لخاظ سے ازبک اور غیر پشتون تھے۔

وہ غیر شادی شدہ تھے اور اپنے بھائی کے ہمراہ پشاور میں مقیم تھے ۔ افغان دور حکومت میں وہ مہاجرین کے امور کے وزیر تھے ۔

افغان ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’آج وہ مسجد سے نکل کر موٹر سائیکل پر کسی کے ہمراہ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے انھیں نشانہ بنایا۔‘

یاد رہے کہ 29 جوری کو صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے اتحاد علما افغانستان کے سربراہ شیخ عبداللہ ذاکری کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

افغان ذرائع کے مطابق افغان طالبان کو شک ہے کہ یہ افغان انٹیلجنس کی کارروائی ہو سکتی ہے تاہم افغان حکومت کا موقف ہے کہ یہ ہلاکتیں طالبان کی اندرونی چپقلش کا نتیجہ ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے بہارہ کہو میں حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنما اور جلال الدین حقانی کے بیٹے نصیرالدین حقانی کی ہلاکت کی بات ہو یا پھر حالیہ دنوں میں کوئٹہ کے بعد اب پشاور میں افغان طالبان کے اہم رہنما کی ہلاکت پاکستان کی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بالکل خاموش ہیں۔

اسی بارے میں