’طالبان سے مزید مذاکرات سے قبل مشاورت ناگزیر‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات سے قبل وہ حکومتی کمیٹی کے دیگر ارکان سے اور حکومت مشاورت کریں گے کہ طالبان کی اس کارروائی پر حکومتی کمیٹی کیا ردِ عمل دے

کالعدم تحریکِ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں پیش رفت کے لیے حکومت کی جانب سے قائم کی گئی حکومتی کمیٹی کے رکن رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کے تازہ واقعے کے بعد پیر کو متوقع مذاکراتی اجلاس سے قبل حکومت سے مشارورت ضروری ہے۔

’منافیِ امن کارروائیاں ہوں ورنہ مشکل ہو گی‘

’قیامِ امن کی ضمانت ملی تو ہی بات آگے بڑھے گی‘

اتوار کو رات دیر گئے تحریکِ طالبان مہمند ایجنسی کے رہنما عمر خالد خراسانی کی جانب سے میڈیا کو ارسال کیے گئے پیغام میں دعوی کیا گیا ان کی تنظیم نےجون سنہ 2010 میں اغواکیے گئے ایف سی کے 23 اہل کاروں کو قتل کر دیا ہے۔

اس واقعے پر ردِ عمل دیتے ہوئے بی بی سی سی کے پروگرام جہاں نما میں بات کرتے ہوئے حکومتی کمیٹی کے رکن رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کا یہ بیان تحریکِ طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کی طرف سے آیا ہے جبکہ حکومت کے مذاکرات کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی کی تاحال تحریکِ طالبان پاکستان کی مرکزی طالبان شوریٰ سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی بلکہ ان کی نمائندہ کمیٹی سے ہی مذاکرات کا عمل جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی یہ بھی غیر واضح ہے کہ ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کا فیصلہ تحریکِ طالبان کی مرکزی شوریٰ کا ہے یا مہمند ایجنسی کے طالبان نے خود ہی یہ فیصلہ کیا ہے۔‘

رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا کہ کہ طالبان سے مذاکرات میں یہ بات پہلے ہی واضح کر دی گئی تھی اگر اس طرح کی کارروائیاں کی گئیں تو بات چیت کرنا نہ صرف مشکل ہوگا بلکہ ان میں کوئی پیش رفت بھی نہیں ہوگی اور نہ ہی ان مذاکرات کا کوئی فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی کی جانب سے طالبان کی کارروائیاں روکے جانے کے مطالبے کا جواب بھی آ گیا تھا۔ انہیں طالبان کی مرکزی شوری کی جانب سے جنگ بندی کا پیغام بھی ملا تھا۔

رحیم اللہ یوسفزئی نے بتایا کہ پیر کو طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ حکومتی کمیٹی کی ملاقات طے تھی۔ جس میں یقیناً اس معاملے پر بات ہوگی۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات سے قبل وہ حکومتی کمیٹی کے دیگر ارکان سے مشاورت کریں گے اور حکومت سے بھی اس بابت بات کی جائے گی کہ طالبان کی اس کارروائی پر حکومتی کمیٹی کیا ردِ عمل دے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک نئی اور خطرناک صورتحال سامنے آئی ہے۔‘

حکومتی کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کے رکن رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ’چونکہ اس کی توقع نہیں تھی اس لیے اب حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اب حکومت کو ہی فیصلہ کرنا ہے کہ مذاکراتی عمل کو روکا جائے یا وضاحتیں طلب کی جائیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے واقعے میں طالبان کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کے بعد حکومت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ اس لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے لوگ مشاورت کر رہے ہیں اور وہ اس کا جواب دیں گے۔

طالبان کی جانب سے سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر فوج کی خاموشی کے حوالے سے رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ فوج کو پہلے بھی ان مذاکرات پر تحفظات تھے کیونکہ ماضی میں بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے ناکام ہو چکے ہیں۔ اس لیے امکان ہے کہ فوج اس تازہ کارروائی میں 23 ایف سی اہلکاروں کی ہلاک پر ناراض ہو۔

اتوار کی رات جارت بیان میں مہمند طالبان نے کہا کہ ’اپنے ساتھیوں کے انتقام کی خاطر ہم نے آج ایف سی کے ان 23 اہل کاروں کو قتل کیا جنھیں جون سنہ 2010 میں شونکڑی پوسٹ پر گرفتار کیا گیا تھا۔‘

حکومت کی طرف سے طالبان کے اس تازہ ترین بیان پر کسی ردِ عمل کا اظہار تا حال سامنے نہیں آیا۔ فوج کے پریس سے متعلق ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے اس خبر کی تصدیق نہیں کی گئی۔

یاد رہے جون سنہ 2010 میں ایسی خبریں آئی تھیں کہ ایف سی کے 40 اہل کاروں کو طالبان نے اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ اپنی پوسٹ پر موجود تھے۔

اسی بارے میں