کراچی: چار مزید لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سرجانی پولیس کا کہنا ہے کہ تین افراد کی شناخت ہوگئی ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے چار تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں اور اسی علاقے سے گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران 11 لاشیں ملی چکی ہیں جن میں سے اکثر کو پولیس نے تحریکِ طالبان کا رکن قرار دیا تھا۔

نادرن بائی پاس کے قریب جھاڑیوں سے منگل کی صبح پولیس کو چار لاشیں ملیں جن پر گولیوں کے زخم تھے۔ ماضی میں اسی علاقے سے بلوچستان سے لاپتہ افراد کی لاشیں مل چکی ہیں۔

سرجانی پولیس کا کہنا ہے کہ تین افراد کی شناخت ہوگئی ہے جن میں سمیع اللہ، حفیظ اللہ اور نور فیصل شامل ہیں جبکہ ایک شخص کی شناخت نہیں ہوسکی۔ چاروں میتیں عباسی شہید ہپستال میں پوسٹ مارٹم کے بعد ایدھی سرد خانے بھیج دی گئی ہیں۔

ایس ایچ او سرجانی کا کہنا تھا کہ چاروں مقتولین قمیض شلوار پہنے ہوئے ہیں اور شکل و صورت سے پشتون نظر آتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے گلشن حدید کے قریب سے چار اور ملیر ندی سے تین لاشیں ملی چکی ہیں۔ ان میں اکثریت کا تعلق محسود قبیلے سے تھا۔ پولیس نے انہیں کالعدم تحریک طالبان کا رکن قرار دیا تھا تاہم یہ نہیں بتایا کہ وہ کس طرح ہلاک ہوئے۔

کالعدم تحریک طالبان حالیہ کارروائیوں کا ایک جواز کراچی سے اپنے اراکین کی گرفتاری اور ماورائے عدالت قتل قرار دیتی رہی ہے، جس کی پولیس اور رینجرز تردید کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب سعید آباد میں ایک آستانے پر دستی بم حملے اور فائرنگ کے الزام میں پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔

ایس پی بلدیہ ساجد صدوزئی کے مطابق سمیع اللہ اور امان اللہ کو قائم خانی کالونی سے گرفتار کیا گیا، جن سے تین ٹی ٹی پستول اور ایک سوزوکی پک اپ برآمد ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کی نو تاریخ کو اس آستانے پر حملے میں آٹھ عقیدت مند ہلاک اور 16 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں