’خواتین کی علیحدہ اسمبلی عملی طور پر ممکن نہیں‘

Image caption خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین اراکین اس پر متفق ہیں کہ سراج الحق کی تجویز عملی طور پر یہ ممکن ہی نہیں

خیبرپختونخوا اسمبلی میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ خواتین کی الگ اسمبلی اور الگ چیئرمین ہونی چاہیے لیکن پختونخوا کی خواتین سمجھتی ہیں کہ یہ ناممکنات میں سے ہے۔

اسمبلی کی یہ تجویز جماعت اسلامی کے رہنما سراج الحق نے اس وقت پیش کی جب مقامی یونیورسٹی میں جنسی تشدد کے واقعے پر پیپلز پارٹی کی رہنما رفعت اورکزئی اپنا موقف بیان کر رہی تھیں۔

یہ سوال کرنے پر کہ خواتین اراکین سے کیا ردعمل ملا اور کیا جماعت اسلامی اس پر کوئی قرارداد بھی پیش کرے گی، جماعت کے سینیئر رہنما سراج الحق نے کہا کہ ’خواتین نے بڑے ڈیسک بجائے۔ میں چاہتا ہوں کہ قومی اسمبلی میں بھی خواتین کے لیے الگ ایوان ہو۔ آج ہم نے یہ بات کی تاکہ ردعمل دیکھیں اور سب سے ویلکم کیا گیا۔‘

لیکن اس پر ان 22 خواتین کی کیا رائے ہے جو پارٹی ٹکٹ پر نہیں بلکہ خواتین کی مخصوص نشتوں پر منتخب ہوئی ہیں؟ اس پر سبھی متفق تھیں کہ عملی طور پر یہ ممکن ہی نہیں۔

پیپلز پارٹی کی رہنما نگہت اورکزئی کہتی ہیں کہ وہ سراج الحق کی اس بات پر نہ صرف تحریک استحقاق بلکہ تحریک التوا لائیں گی کیونکہ انھوں نے آئین کی خلاف بات کی ہے اور ان پر غداری کا مقدمہ بھی چل سکتا ہے: ’یہ تجویز آئین کے خلاف ہے۔ مولانا صاحب نے آج پہلی بار ایسی بات نہیں کی۔ وہ خواتین اراکین کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ سعودی عرب کی شوریٰ میں بھی خواتین کو نمائندگی مل چکی ہے تو کیا سراج الحق وہاں کے نظام کو بھی چیلنج کر سکتے ہیں۔

لیکن نگہت اورکزئی کے برعکس ایسی بھی اراکین اسمبلی تھیں جنھوں نے کہا کہ سراج الحق اپنے بیان میں سنجیدہ نہیں تھے۔ ہری پور سے تعلق رکھنے والی رکن اسمبلی انیسہ طاہر خیلی کہتی ہیں کہ مولانا کو خود بھی اندازہ ہے کہ ایسا عملی طور پر ممکن نہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ شاید وہ صرف مزاح پیدا کرنے کے لیے ایسا کر رہے تھے لیکن کسی نے ان کی اس تجویز پر ڈیسک بجا کر خیرمقدم نہیں کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر وہ قرارداد لائیں گے تو انھیں پتہ چل جائے گا کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔

پختونخوا کی حکمران جماعت تحریک انصاف کی رکن ملیحہ تنویر نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اگر مولانا سراج الحق کو خواتین کا اتنا ہی خیال اور شوق ہے تو وہ ہماری نشستیں بڑھا دیں: ’ملک پہلے ہی غریب ہے الگ اسمبلی سے ہماری تو مزے ہوں گے لیکن یہ بتائیں کہ اتنے اخراجات اور تعمیر کیسے ہوگی؟‘

ان کا کہنا ہے کہ یہ تاثر بھی غط ہے کہ ہمیں اسمبلی میں عورتوں کے معاملات اور حقوق کے لیے آواز اٹھانے میں کوئی ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔ ’ہمارا حق ہے کہ ہم پر اعتماد کیا جائے اور ہمیں بھی ٹکٹ دیا جائے اور اہم عہدے دیے جائیں۔‘

پی ٹی آئی کی ہی ایک رکن اسمبلی نرگس علی کہتی ہیں کہ اگر الگ اسمبلی بنی تو مسئلے کبھی حل نہیں ہوں گے کیونکہ ہم تو مرد و عورت دونوں کی نمائندگی کے لیے یہاں آئی ہیں۔

’یہ درست ہے کہ بہت سے ایسے بل جو خواتین پیش کرنا چاہتی ہیں پاس نہیں ہوسکتے جیسے سابقہ اسمبلی میں کم عمر لڑکیوں سے شادی کے معاملے کا بل پیش ہی نہیں کرنے دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود الگ اسمبلی کا قیام ممکن نہیں۔ پوری دنیا میں بشمول اسلامی ممالک کہیں بھی ایسا نھیں ہوتا۔‘

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رہنما رومانہ جلیل کا کہنا ہے کہ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ الگ اسمبلی نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی ہماری جماعت عورتوں کی الگ اسمبلی کے حق میں ہوگی۔ ’وہ نہیں مانیں گے کہ خواتین کی الگ اسمبلی ہو الگ چیئرمین ہو سب کچھ الگ ہو۔‘

سراج الحق نے یہ بات مزاح میں کہی یا پھر وہ مستقبل میں واقعی الگ اسمبلی کی تجویز کو قرارداد کی صورت میں پیش کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس پر خواتین کی رائے میں اختلاف ہے اور ان کی اکثریت سمجھتی ہے کہ آئینی طور پر یہ ممکن نہیں اور معاشی طور پر ایسا کرنا ایک اضافی بوجھ ہو گا۔ لیکن اگر کسی کو خواتین کی 51 فیصد آبادی کا خیال ہے تو وہ خواتین کو انتخابات لڑ کر اسمبلی میں آنے کا اعتماد دیں۔

اسی بارے میں