عوامی نیشنل پارٹی ’ولی گروپ‘ کا قیام

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیگم نسیم ولی خان نے کہا کہ نئی جماعت خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں عوامی نیشنل پارٹی کی حقیقی سیاست کو دوبارہ زندہ کرے گی

خیبر پختونخوا کی قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہبر مرحوم خان عبدالولی خان کی بیوہ اور بزرگ سیاستدان بیگم نسیم ولی خان نے ’عوامی نیشنل پارٹی ولی‘ کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔

پشاور میں بدھ کو ایک مختصر نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیگم نسیم ولی خان نے کہا کہ نئی جماعت خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں عوامی نیشنل پارٹی کی حقیقی سیاست کو دوبارہ زندہ کرے گی اور جس کا اصل سرمایہ ان کے کارکن ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی پارٹی خان عبدالغفار خان (باچا خان) اور خان عبدالولی خان کے حقیقی فلسفے پر عمل پیرا ہوکر ملک میں نظریاتی، جمہوری اور مثبت سیاست کو فروغ دےگی۔

اخباری کانفرنس کا انعقاد اے این پی کے ایک سابق رکن صوبائی اسمبلی عاطف خان کے حجرے پر ہوا جہاں پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔

وہاں موجود افراد میں بیشتر اے این پی کے سابق رہنما یا کارکن تھے جو انتخابات میں ٹکٹ نہ ملنے یا کسی اور وجہ سے پارٹی سے ناراض ہوکر اب علیحدگی اختیار کرچکے ہیں۔

اس موقع پر پارٹی سربراہ کی طرف سے مختلف اضلاع اور علاقوں کے صدور اور جنرل سیکرٹریز کے ناموں کا بھی اعلان کیا گیا۔

بیگم نسیم ولی خان نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے موجودہ صوبائی رہنما اور اے این پی کے ایک سابق سرگرم رہنما فرید طوفان کو نئی جماعت کے سیکرٹری جنرل کے طور پر نامزد کرنے کا اعلان کیا۔

فرید طوفان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ جماعت ہندوستان میں سرگرم عام آدمی پارٹی کی طرز پر سیاست کو فروغ دے گی اور اس مقصد کے لیے غریب پشتون عوام کو منظم کیا جائے گا۔‘

حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اگر یہ مذاکرات واقعی حقیقت پر مبنی ہیں اور اس میں کوئی ڈھونگ نہیں تو ان کی پارٹی اس کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

فرید طوفان نے دعوی کیا کہ پشاور میں واقع عوامی نیشنل پارٹی کا مرکزی دفتر باچا خان مرکز بیگم نسیم ولی خان اور بعض دیگر سیاستدانوں کی کوششوں سے تعمیر کیا گیا تھا اور یہ مرکز آج بھی بیگم نسیم کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔

انھوں نے کہا کہ اے این پی کے رہنماؤں کو باچا خان مرکز فوری طور پر خالی کر کے ولی خان کے اصل وارثوں کے حوالے کرنا چاہیے تاکہ اس کے دروازے کارکنوں کےلیے کھول دیے جائے۔

خیال رہے کہ دو ہزار پانچ میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان اور ان کی سوتیلی والدہ بیگم نسیم ولی خان کے درمیان پارٹی امور پر شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ ان اختلافات کے نتیجے میں اس وقت کی صوبائی صدر نیگم نسیم ولی خان اور صوبائی جنرل سیکرٹری فرید طوفان کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

چند ماہ قبل اے این پی کے ایک اور مرکزی رہنما اور بیگم نسیم ولی خان کے بھائی اعظم خان ہوتی نے بھی پارٹی سربراہ اسفندیار ولی خان کی پالیسیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا اور ان پر پشتونوں کے سروں کے بدلے میں امریکہ سے ڈالر لینے کا الزام عائد کیا تھا۔

اسی بارے میں