’مذاکرات کا آپشن ابھی ترک نہیں کیا گیا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزیرِاعظم نواز شریف نے منگل کو بری فوج کے سربراہ سے بھی ملاقات کی تھی

پاکستان کی وفاقی حکومت نے طالبان شدت پسندوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا سلسلہ فی الوقت منقطع تو کر دیا ہے لیکن وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ اس بارے میں ہونے والی مشاورت میں شریک بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے بارے میں بھی ابھی تک کابینہ یا حکمران جماعت کے ساتھ کسی قسم کی مشاورت نہیں کی ہے۔

وزیراعظم کے قریبی خیال کیے جانے والے ایک سینیئر مسلم لیگی عہدیدار نے بی بی سی کو غیر رسمی گفتگو میں بتایا ہے کہ میاں نواز شریف نے فوجی قیادت کے ساتھ بھی صرف ایک بار قبائلی علاقوں میں طاقت کے استعمال پر بریفنگ لی تھی۔

’مذاکرات نہ ہوئے تو تشدد بڑھ سکتا ہے‘

نواز کابینہ کے ایک رکن نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے گذشتہ ماہ ایک بریفنگ میں وزیراعظم کے براہِ راست سوال کے جواب میں کہا تھا کہ فوجی آپریشن کے ذریعے شمالی وزیرستان کو شدت پسندوں سے خالی کروانا ’قابلِ عمل‘ ہے۔

تاہم کابینہ کے اس رکن کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے کابینہ، حکمران جماعت یا فوجی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اس موضوع پر مزید کوئی بات نہیں کی ہے۔

مسلم لیگ کے اہم عہدے پر فائز ایک سیاسی رہنما کے مطابق طالبان شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے فی الحال اپنی کارروائیاں معطل تو کر دی ہیں لیکن مذاکرات کا آپشن کلی طور پر ابھی بھی ترک نہیں کیا گیا ہے۔

اس رہنما کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے معاملات ایک بار پھر اسی طریقے پر واپس چلے گئے ہیں جس طرح سے اس کمیٹی کے قیام سے قبل چل رہے تھے۔

29 جنوری کو اس کمیٹی کے قیام سے قبل طالبان شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کے سپرد تھی جو خفیہ طریقے سے مذاکرات کو آگے بڑھا رہے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار کی مخالفت کے باوجود وزیراعظم نواز شریف نے ان مذاکرات کو علی الاعلان کرنے کا فیصلہ کیا تھا: ’چوہدری نثار کی رائے تھی کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اتنی پیچیدگیاں اور نزاکتیں ہیں کہ اعلانیہ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔‘

تاہم سیاسی جماعتوں، خاص طور پر عمران خان کے اصرار پر وزیراعظم نے اس مذاکراتی عمل کو عوام کے سامنے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ان ذرائع کے مطابق کمیٹی کی جانب سے مذاکرات جاری رکھنے سے معذوری کے بعد گیند ایک بار پھر چوہدری نثار کے کورٹ میں آ گئی ہے جو کمیٹی کے قیام سے قبل اس سلسلے میں خاصی پیش رفت کا دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں۔

مسلم لیگی عہدیدار کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے پچھلے سال ہونے والے عام انتخابات سے قبل ہی شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں شروع کر دی تھیں اور ’اس ایک سال کے دوران ابھی تک انہوں نے کسی پارٹی عہدیدار یا کابینہ کے ارکان کے ساتھ فوجی کارروائی شروع کرنے کے بارے میں مشاورت نہیں کی ہے۔‘

ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال سے مطلب یہی اخذ کر سکتے ہیں کہ وزیراعظم کے ذہن میں صورتحال کو ٹھیک کرنے کے لیے فوجی آپریشن ابھی تک ایک آپشن کے طور پر موجود نہیں ہے۔

اسی بارے میں