’طالبان کےساتھ مذاکرات، دہشت گردی کے متاثرین سے ناانصافی‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption فوج انتہا پسندوں کےخلاف کارروائیاں اپنے دفاع میں کر رہی ہے: وزیر داخلہ

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار خان نے کہا ہے کہ دہشت گرد حملے جاری رہنے کی صورت میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا دہشتگردی کے متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

جمعرات کو اسلام آباد میں اِخباری کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا شدت پسندی کے تازہ واقعات کے پیش نظر وزیرِ اعظم اور فوجی قیادت طالبان سے مذاکرات جاری رکھنا نہیں چاہتی۔

انہوں نے قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کا موقف دہرایا: ’حکومت کا یہ فیصلہ اٹل ہے کہ مذاکرات اور تشدد ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔‘ انہوں نے کہا کہ حکومت اور فوج کے موقف میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔

انہوں نے شمالی وزیرستان میں انتہا پسندوں کے خلاف فضائی کارروائیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی اداروں کو اپنا دفاع کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنا دفاع کرے۔

طالبان کی جانب جنگ بندی کے مطالبہ کا حوالہ دیتے کہا: ’گذشتہ ستمبر سے لے کر اب تک حکومت نے کوئی فوجی آپریشن نہیں کیا بلکہ شورش زدہ علاقوں میں فوج کی آمد و رفت بھی محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج انتہا پسندوں کے خلاف تازہ کارروائیاں اپنے دفاع میں کر رہی ہے۔ کسی کواختیار نہیں کہ وہ فوج کو اپنا دفاع کرنے سے روک سکے۔‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ فوجی آپریشن کا فیصلہ کر لیاگیا تھا: ’حتیٰ کہ تقریر بھی تیار کر لی گئی تھی مگر وزیر اعظم نے یہی فیصلہ کیا کہ مذاکرات کا راستہ ہی بہتر راستہ ہے۔‘

انہوں نے کہا طالبان کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا: ’وہ جو فوجی آپریشن کی بات کرتے ہیں انہوں نے اپنے دور حکومت میں آپریشن کیوں نہیں کیا؟‘

’بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ حکومتیں طالبان سے مذاکرات کرنے کے لیے کبھی سنجیدہ نہیں رہیں اس لیے ان لوگوں کی حمایت کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات کا عمل چلے۔‘

گذشتہ روز قومی اسمبلی میں وزرات داخلہ کی کمیٹی کی جانب سے دیے گیے اس بیان پر کہ اسلام آباد میں مختلف دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی وجہ سے شہر کو انتہا پسندی کے خطرات کا سب سے زیادہ سامنا ہے، وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اسلام آباد خطرناک شہر ہے، بلکہ یہ سب سے محفوظ شہر ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ وزرات داخلہ کے بحران سے نمٹنے کے قومی ادارے کے سربراہ طارق لودھی نے جن اعداد و شمار پر خطرات کا تعین کیا ہے وہ گذشتہ کئی برسوں کے ہیں۔

وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ دہشت گردی کا صرف ناکے لگاکر مقابلہ نہیں کیا جاسکتا، اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس شیئرنگ ضروری ہے۔ اسلام آباد میں اور راولپنڈی میں نگرانی کے لیے 1500 کیمرے لگائے جا رہے ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید آلات سے لیس کیا جا رہا ہے اور اس کا دائرہ کار بعد میں مزید بڑھایا جائے گا۔

اسی بارے میں